مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما کی پی ٹی آئی میں شمولیت؟ بیرسٹر گوہر کا رد عمل سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, June 2025 GMT
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سابق سینئر رہنما اور سابق گورنر سندھ محمد زبیر کی پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت سے متعلق پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر کا رد عمل سامنے آگیا۔
رپورٹ کے مطابق سابق گورنر اور مسلم لیگ ن کے سربراہ نواز شریف کے سابق ترجمان زبیر عمر کی پی ٹی آئی میں شمولیت کا امکان ہے۔ زبیر عمر کی پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت سے متعلق پی ٹی آئی پیٹرن ان چیف سے مشاورت مکمل کر لی گئی ہے۔
اسلام آباد میں میڈیا سے بات چیت کے دوران صحافی نے پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر سے سوال کیا کہ کیا سابق گورنر سندھ محمد زبیر پی ٹی آئی میں شامل ہورہے ہیں، اس پر بیرسٹر گوہر نے جواب دیا کہ پاکستان تحریک انصاف ایک سیاسی جماعت ہے ہمارے دروازے سب کے لیے کھلے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پیٹرن ان چیف پی ٹی آئی کی سزاؤں کے معطلی کے حوالے سے پہلی مرتبہ کیس اسلام اباد ہائی کورٹ میں لگا ہے، پہلی مرتبہ پراسیکیوشن ٹیم کی جانب سے کوئی پیش ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ عید سے دو دن قبل امید ہے کہ کوئی مثبت پیشرفت ہوگی، 17 جنوری کے بعد اب جون آگیا ہے، ابھی تک کیس کی سماعت نہیں ہوئی، روٹین میں یہ ایک مہینے کے اندر اندر فیصلہ ہوتا ہے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ نواز شریف کا جو پہلے کیس ہوا تھا 70 دن کے بعد اس کی رہائی ہوئی تھی۔
اسی طرح دوسرے کیس میں 51 دن کے بعد ان کی رہائی ہوئی تھی، بانی پی ٹی آئی کے کیسر کو تین اگست کو دو سال پورے ہو جائیں گے، انصاف نہ صرف ہو بلکہ ہوتا ہوا نظر آنا چاہیے۔
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بیرسٹر گوہر میں شمولیت پی ٹی ا ئی پی ٹی آئی
پڑھیں:
مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔
فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔
حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔
ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘
ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔
یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔