مایوسی میں پی ٹی آئی بی ایل اے سے بھی گٹھ جوڑ کر سکتی ہے: عرفان صدیقی
اشاعت کی تاریخ: 5th, June 2025 GMT
عرفان صدیقی—فائل فوٹو
رہنما مسلم لیگ ن و سینیٹر عرفان صدیقی کا کہنا ہے کہ مایوسی کے عالم میں پی ٹی آئی بی ایل اے سے بھی گٹھ جوڑ کر سکتی ہے، کسی طرح کا سیاسی اتحاد بنانا پی ٹی آئی کے بس کی بات نہیں۔
چیئرمین پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ بانیٔ پی ٹی آئی سے مشاورت کے بعد چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن حکام کی تعیناتی کے معاملے کا جواب دیا جائے گا۔
اسلام آباد سے جاری کیے گئے بیان میں مسلم لیگ ن کے رہنما و سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی اپنی طاقت گنوا چکی، وہ کوئی تحریک نہیں چلا سکتی۔
ان کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کو اپنی مشکلات میں مزید اضافے کے سوا کچھ نہیں ملے گا، بانیٔ پی ٹی آئی سے جیل میں حکومت یا اسٹیبلشمنٹ کی کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔
سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ بانیٔ پی ٹی آئی کو کوئی پیشکش کی گئی نہ کوئی فارمولہ دیا گیا، پی ٹی آئی عوام کو سڑکوں پر لا سکتی ہے تو ماہ رنگ بلوچ کے کندھوں کا سہارا کیوں لے رہی ہے؟
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: عرفان صدیقی پی ٹی ا ئی
پڑھیں:
اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔