پنجاب میں ملک کا سب سے بڑا صفائی آپریشن جاری، ایک لاکھ 23 ہزار ورکرز ماموں میں مصروف ہیں، مریم نواز
اشاعت کی تاریخ: 7th, June 2025 GMT
لاہور: وزیر اعلی پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ پنجاب بھر میں سب سے بڑا صفائی آپریشن زور و شور سے جاری ہے، ستھرا پنجاب کے ایک لاکھ 23 ہزار ورکرز صفائی آپریشن میں مصروف ہیں۔
انہوں نے یہ بات سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے ایک بیان میں کہی۔
مریم نواز نے کہا کہ پنجاب بھر میں سب سے بڑا صفائی آپریشن زور و شور سے جاری ہے،
ستھرا پنجاب کے ایک لاکھ تیس ہزار ورکرز صفائی آپریشن میں مصروف ہیں۔
وزیر اعلیٰ پنجاب نے کہا کہ 23 ارب روپے مالیت کی مشینری صفائی مہم میں استعمال ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ تمام اضلاع کی نگرانی کنٹرول رومز اور سیف سٹی کیمروں سے کی جا رہی ہے، صفائی آپریشن کی قیادت وزیر بلدیات ذیشان رفیق کر رہے ہیں۔
Post Views: 5.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔