سورج کا قہر جاری؛ لاہور سمیت پورا پنجاب شدید گرمی کی لپیٹ میں
اشاعت کی تاریخ: 8th, June 2025 GMT
عید کے دوسرے روز لاہور سمیت پنجاب بھر شدید گرمی کی لپیٹ میں آ گیا ہے جہاں سورج نے آگ کے گولے برسانا شروع کر دیے ہیں۔
صوبائی دارالحکومت میں خشک موسم کے باعث گرمی کی شدت میں غیر معمولی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق شہر میں آج کم سے کم درجہ حرارت 29 جب کہ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 44 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ 2روز کے دوران لاہور سمیت پنجاب کے بیشتر علاقوں میں موسم شدید گرم اور خشک رہے گا، جس کے باعث شہریوں کو خاصی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اُدھر محکمہ موسمیات کی ملک گیر پیشگوئی کے مطابق 07 سے 12 جون کے دوران وسطی و بالائی پنجاب، اسلام آباد، خیبرپختونخوا، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں دن کے اوقات میں درجہ حرارت معمول سے 5 سے 7 ڈگری زیادہ رہنے کا امکان ہے، جبکہ بالائی و وسطی سندھ، جنوبی پنجاب اور بلوچستان میں یہ درجہ حرارت 4 سے 6 ڈگری زیادہ ہو سکتا ہے۔
پیش گوئی کے مطابق ملک کے میدانی علاقے شدید گرمی کی لپیٹ میں رہیں گے، جہاں موسم نہ صرف شدید گرم بلکہ انتہائی خشک بھی ہوگا۔ شدید گرمی کی اس لہر میں گزشتہ روز سب سے زیادہ درجہ حرارت بلوچستان کے شہر سبی میں 47 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔
محکمہ موسمیات نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے حفاظتی اقدامات اختیار کریں، پانی کا استعمال بڑھائیں اور بلاضرورت دھوپ میں نکلنے سے گریز کریں۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: محکمہ موسمیات شدید گرمی کی
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔