عظمی بخاری کے بیان پر سندھ حکومت کا رد عمل بھی سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 8th, June 2025 GMT
کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)سندھ حکومت کی ترجمان سمعتا افضال سید نے کہا ہے کہ ترجمان پنجاب حکومت کو زمینی حقائق دیکھ کر بیان دینا چاہیے۔کراچی سے جاری بیان میں سمعتا افضال سید نے وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کے بیان پر ردعمل دیا۔
انہوں نے کہا کہ میئر کراچی نے مکمل ذمہ داری سنبھالی ہوئی ہے، لاہور میں تو کوئی میئر ہی نہیں ہے۔سندھ حکومت کی ترجمان نے مزید کہا کہ میئر کراچی مرتضیٰ وہاب خود فیلڈ میں ہیں اور صفائی کے کاموں کی نگرانی کر رہے ہیں۔سمعتا افضال سید نے یہ بھی کہا کہ ترجمان پنجاب حکومت کو بیان دینے سے پہلے زمینی حقائق دیکھنے چاہیے۔
آپ کی آنکھیں اپنے والدین سے نہیں ملتیں، گھر میں مذاق، لیکن پھر بزرگ شہری نے ڈی این اے کرایا تو 80 سال پرانی حقیقت کھل کر سامنے آگئی
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔