پی ایف یو جے کے سیکریٹری فنانس کی اے ڈی شر کے اہل خانہ سے تعزیت
اشاعت کی تاریخ: 11th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سکھر (نمائندہ جسارت) پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے سیکریٹری فنانس لالا اسد پٹھان، فیڈرل ایگزیکٹو کونسل کے رکن نصراللہ وسیر، سکھر یونین آف جرنلسٹس کے صدر سلیم سہتو، خازن کامران شیخ و دیگر عہدیداران پر مشتمل ایک نمائندہ وفد نے شہید صحافی اے ڈی شر کے آبائی گاؤں (ہنڈیاری، ضلع خیرپور) پہنچ کر شہید صحافی کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا اور مرحوم کی والدہ سے ملاقات کی، وفد نے شہید کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی اور اہل خانہ کو یقین دلایا کہ ملک بھر کی پوری صحافتی برادری ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ اس موقع پر سکھر یونین آف جرنلسٹس کی جانب سے شہید صحافی اے ڈی شر کے صاحبزادے کو مالی معاونت کے طور پر 2 لاکھ روپے کا چیک بھی پیش کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔