اسٹاک ایکسچینج میں نئی تاریخ رقم؛ انڈیکس ایک لاکھ 26 ہزار پوائنٹس کی سطح عبورکرگیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT
کراچی:
پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے نئی تاریخ رقم کر دی۔ وفاقی بجٹ کے بعد سرمایہ کاروں کے اعتماد اور مثبت توقعات کے باعث مارکیٹ زبردست تیزی کے ساتھ ایک لاکھ 26 ہزار پوائنٹس کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔
واضح رہے کہ بدھ کے روز کاروبار کا اختتام 100 انڈیکس میں 2328 پوائنٹس اضافے کے ساتھ ایک لاکھ 24 ہزار 352 پوائنٹس پر ہوا تھا، جو مارکیٹ کی اب تک کی بلند ترین سطح تھی، تاہم آج جمعرات کے روز بھی مارکیٹ کا آغاز مثبت رجحان کے ساتھ ہوا اور ابتدا ہی میں 1233 پوائنٹس کے اضافے سے انڈیکس ایک لاکھ 25 ہزار 585 پوائنٹس کی سطح کو چھو گیا۔
بعد ازاں تیزی کا رجحان مستحکم رہا اور 100 انڈیکس میں مجموعی طور پر 1675 پوائنٹس کا زبردست اضافہ دیکھا گیا، جس کے ساتھ ہی مارکیٹ نے ایک لاکھ 26 ہزار 028 پوائنٹس کی نئی تاریخی بلندی عبور کر لی۔
اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کاروباری طبقے کو ممکنہ ریلیف، نئے ٹیکس نہ لگنے اور جاری معاشی اصلاحات کے تسلسل نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو تقویت دی ہے، جس کا اثر اسٹاک مارکیٹ پر بھرپور انداز میں ظاہر ہو رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ رجحان برقرار رہا تو ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے نہ صرف کیپٹل مارکیٹ بلکہ مجموعی معیشت کو بھی مثبت اثرات حاصل ہوں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پوائنٹس کی ایک لاکھ
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔