ہمارا نیا ماڈل حقیقی دنیا کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے، میٹا کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
میٹا نے ایک نیا جنریٹو آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) ماڈل متعارف کرایا ہے جو حقیقی دنیا کو سمجھنے کی بہتر صلاحیت رکھتا ہے۔
کمپنی کے مطابق اس جدید ماڈل سے نہ صرف اسمارٹ روبوٹس بلکہ دیگر مشینوں کی تیاری میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔ اس اوپن سورس ماڈل کا نام “ویڈیو جوائنٹ ایمبیڈنگ پریڈیکٹیو آرکیٹیکچر 2” (V-JEPA 2) رکھا گیا ہے۔
ماڈل کو اس انداز میں تیار کیا گیا ہے کہ یہ کششِ ثقل جیسے قدرتی مظاہر کو سمجھنے میں مدد دے، تاکہ AI اس بات کا ادراک کر سکے کہ مثلاً گیند میز سے نیچے کیوں گرتی ہے۔
روایتی AI ماڈلز عام طور پر ویڈیوز یا ڈیٹا پر انحصار کرتے ہیں، لیکن میٹا کا یہ نیا ماڈل مصنوعی ذہانت کو حقیقی دنیا کے اصولوں کو بہتر انداز میں سمجھنے کے قابل بنائے گا۔
میٹا کا کہنا ہے کہ یہ ماڈل خودکار ڈرائیونگ والی گاڑیوں اور مختلف روبوٹس کے لیے بھی انتہائی مفید ہوگا، کیونکہ اس سے انہیں ہر ممکنہ صورتحال کے لیے علیحدہ تربیت دینے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ایران کا بحرین میں ایمیزون کے ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنانے کا بڑا دعویٰ
تہران / منامہ: ایران کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحرین میں امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایمیزون کے ایک ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ کارروائی امریکا کے خلاف جاری جوابی اقدامات کا حصہ ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے ایک بیان میں کہا کہ حملے کا ہدف امریکی کمپنی ایمیزون کی وہ ڈیٹا تنصیب تھی جو ان کے بقول امریکی فوج کو معلوماتی معاونت فراہم کرنے میں کردار ادا کر رہی تھی۔
بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ مذکورہ ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا تاہم ایرانی حکام نے اس دعوے کے حق میں فوری طور پر کوئی شواہد یا مزید تفصیلات پیش نہیں کیں۔
دوسری جانب خبر شائع ہونے تک امریکی کمپنی ایمیزون، بحرین کی حکومت یا امریکی حکام کی جانب سے ایران کے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ آزاد ذرائع سے بھی اس حملے یا اس کے ممکنہ نقصانات کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
ایران نے ایک بار پھر اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں وہ تمام فوجی اڈے یا تنصیبات جو امریکا ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کرتا ہے، ایران کی نظر میں جوابی حملوں کے لیے جائز ہدف ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ایران کے دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ پہلی بار ہوگا کہ کسی بڑی عالمی ٹیکنالوجی کمپنی کی تنصیب کو ایران نے براہِ راست اپنی فوجی کارروائی کا ہدف قرار دیا ہے۔ تاہم اس معاملے کی آزادانہ تصدیق کا انتظار کیا جا رہا ہے۔