ضلع کرم: فتنہ الخوارج کا فورسز کی چیک پوسٹ پر حملہ، 2 اہلکار شہید، 7 زخمی
اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT
خیبرپختونخوا کے ضلع کرم کے سرحدی علاقے حسین میلہ میں فتنہ الخوارج نے سیکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر حملہ کردیا .جس کے نتیجے میں 2 اہلکار شہید اور 7 زخمی ہوگئے۔ذرائع کے مطابق اپر کرم میں افغانستان کے صوبے ننگرہار سے ملحقہ ضلع کرم کے لقمان خیل تنگی کے علاقے حسین میلا میں فتنہ الخوارج سے داخل ہوکر فورسز کے پوسٹ پر بھاری اور خودکار ہتھیاروں سے حملہ کیا۔فتنہ الخوارج کے حملے کے نتیجے میں اہلکار لانس نائیک سلیم موقع پر ہی شہید ہوگئے اور 8 اہلکار زخمی ہوگئے، بعد ازاں دوران علاج ایک اور اہلکار زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔زخمیوں میں حوالدار موالی خان ، حوالدار جہاد حسین طوری ، لانس نائیک یوسف ، سید ایوب ، سپاہی ابرار ، سپاہی عثمان ، نائب صوبیدار جاوید حسین شامل ہیں جنہیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے پشاور منتقل کر دیا گیا۔واقعے کے بعد فورسز نے بھی حملہ آوروں کے خلاف کارروائی کی جب کہ قریبی علاقوں میں مقیم قبائل نے لاؤڈ اسپیکروں پر دہشت گردوں کا پیچھا کرنے کے لیے اعلانات کیے جس کے نتیجے میں ایک حملہ آور کو گرفتار کرلیا گیا، تاہم دیگر حملہ اور فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔گرفتار دہشتگرد نے اعتراف کیا ہے کہ انہیں اسلحہ طالبان نے فراہم کیا تھا اور پوسٹ پر حملے کا کہا تھا۔ضلع کرم سے رکن قومی اسمبلی انجینئر حمید حسین نے کہا ہے کہ ضلع کے قبائل سے حکومت نے اسلحہ بھی جمع کر لیا ہے جب کہ افغانستان سمیت مختلف علاقوں سے دہشت گرد اس قسم کاروائیاں کر رہے ہیں۔حمید حسین نے ذمہ دار حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ پاک-افغان سرحد کے قریبی علاقوں میں مقیم قبائل کو سرکاری طور پر اسلحہ دیا جائے تاکہ وہ ملک و قوم کی دفاع میں حکومت کا ساتھ دے سکیں اور اپنی دفاع کر سکیں۔
دوسری جانب اس واقعے کے بعد پاراچنار پشاور مین شاہراہ چلنے والی ایمبولنس سروس بھی متاثر ہو گئی ہے .
واضح رہے کہ ضلع کرم میں دہشت گردی کے واقعات کے باعث گزشتہ 9 ماہ سے آمدورفت کے راستے بند ہیں۔سابق وفاقی وزیر ساجد طوری نے اس واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور مقامی لوگوں کی بروقت کارروائی کو سراہتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ قبائل سے اسلحہ چھیننے کی بجائے انہیں سرکاری طور پر اسلحہ فراہم کیا جائے .تاکہ ملک دشمن عناصر کی سرکوبی کی جاسکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: فتنہ الخوارج پوسٹ پر
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔