اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی ایران پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نیویارک: اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اسرائیل کے جانب سے ایران پر کیے گئے فضائی حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسی کارروائیاں خطے کو تباہ کن کشیدگی کی طرف دھکیل سکتی ہیں۔
اپنے جاری کردہ بیان میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے فریقین پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر تحمل اور دانشمندی کا مظاہرہ کریں اور ایسے کسی بھی اقدام سے باز رہیں جو مشرقِ وسطیٰ کو مزید عدم استحکام کی طرف لے جائے۔
انہوں نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی سنگین بحرانوں سے دوچار ہے اور موجودہ تناؤ میں اضافہ نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی امن و سلامتی کو بھی خطرے میں ڈال سکتا ہے۔
انتونیو گوتریس نے واضح کیا کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی ایک بڑے تنازع میں تبدیل ہو سکتی ہے جس کے اثرات دور رس اور تباہ کن ہوں گے، اس وقت خطے کو امن، مذاکرات اور سفارتی حل کی ضرورت ہے، نہ کہ جنگ اور تصادم کی۔
اقوام متحدہ کی یہ پریشانی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیل نے ایران کی جوہری تنصیبات سمیت متعدد مقامات پر حملے کیے، جس کے بعد خطے میں غیرمعمولی تناؤ اور اضطراب کی کیفیت پیدا ہو گئی ہے۔ عالمی قوتیں صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اقوام متحدہ
پڑھیں:
ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
واشنگٹن:امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے مکمل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارروائی کے دوران ایرانی فوجی تنصیبات، ڈرون مراکز اور ساحلی نگرانی کے نظام کو نشانہ بنایا گیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ تازہ کارروائی میں فوجی کمانڈ سینٹرز، ڈرون ذخیرہ گاہیں، مواصلاتی نیٹ ورک، ساحلی نگرانی کے مراکز اور بحری صلاحیتوں سے متعلق اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
https://t.co/Wtbk84dEsc
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 24, 2026سینٹکام کے مطابق ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور شہری بحری نقل و حمل کو درپیش خطرات میں مزید کمی لانا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز بدستور کھلی ہوئی ہے اور تجارتی جہاز امریکی فوج کی معاونت کے ساتھ معمول کے مطابق اس اہم بحری راستے سے گزر رہے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے مزید بتایا کہ اس وقت مشرق وسطیٰ کے مختلف علاقوں میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی اہلکار تعینات ہیں جو خطے میں جاری صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔