خیبر پختونخوا بجٹ کا 66 فیصد حکومتی امور اور سرکاری ملازمین پر خرچ ہو گا، عوام کے لیے کیا ریلیف ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
خیبر پختونخوا حکومت نے مالی سال 2025-26 کے لیے 157 ارب روپے کا سرپلس بجٹ پیش کردیا۔ بجٹ کا کل تخمینہ 2 ہزار119 ارب روپے کا لگایا گیا ہے، جس میں سے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے لیے 547 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔
یہ بھی پڑھیں: صوبہ سندھ کے بجٹ سال 2025-26 میں عوام کے لیے خاص کیا ہے؟
وزیر خزانہ و قانون افتاب عالم نے بجٹ اسمبلی میں پیش کیا اور بتایا کہ صوبائی بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا، جبکہ وفاق کے برعکس سابقہ فاٹا اور پاٹا میں ٹیکس نہ لگانے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
بجٹ کا 66 فیصد حکومتی امور اور سرکاری ملازمین پر خرچ ہو گاخیبر پختونخوا حکومت کے بجٹ کا مجموعی تخمینہ 2119 ارب روپے لگایا گیا ہے، صوبائی بجٹ 3 حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے، اخراجاتِ جاریہ، ترقیاتی پروگرام، اور معمولی حصہ سرپلس کے لیے رکھا گیا ہے۔
بجٹ دستاویز کے مطابق صوبائی بجٹ کے 2119 ارب روپے میں سے 1415 ارب روپے اخراجاتِ جاریہ یعنی سرکاری امور چلانے، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگیوں کے لیے مختص کرنے کی تجویز ہے، جو بجٹ کا 66 فیصد بنتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ’یہ غریب مکاؤ بجٹ ہے‘، خیبر پختونخوا حکومت وفاقی بجٹ سے غیر مطمئن کیوں؟
بجٹ دستاویز کے مطابق بجٹ میں صوبائی حکومت کی جانب سے ترقیاتی اخراجات کے لیے 547 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، جو مجموعی بجٹ کا 25 فیصد بنتا ہے۔ یوں 2119 ارب روپے کے بجٹ میں صرف 547 ارب روپے صوبے کی 40 ملین آبادی کی ترقی پر خرچ ہوں گے، جبکہ 66 فیصد حکومت اور سرکاری ملازمین پر خرچ کیا جائے گا۔
صوبے کو 84 فیصد سے زائد فنڈز وفاق سے ملیں گےبجٹ دستاویز کے مطابق خیبر پختونخوا فنڈز کے لیے وفاق پر انحصار کرتا ہے، جبکہ صوبے کی اپنی آمدن نہ ہونے کے برابر ہے۔ بجٹ دستاویز میں وفاقی محصولات اور ترقیاتی منصوبوں کا تخمینہ 1797 ارب روپے لگایا گیا ہے، جو بجٹ کا 84 فیصد سے زائد بنتا ہے۔
بجٹ دستاویز کے مطابق صوبائی محصولات کا تخمینہ 129 ارب روپے لگایا گیا ہے، جو بجٹ کا صرف 6 فیصد بنتا ہے، جبکہ 9 فیصد بیرونی قرضوں، امداد اور گرانٹس سے ملنے کی تجویز ہے۔
سابقہ فاٹا اور پاٹا میں ٹیکس ریلیف برقراربجٹ میں صوبائی حکومت نے وفاق کے برعکس سابقہ قبائلی علاقوں اور مالاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس ریلیف کو برقرار رکھنے کی تجویز دی ہے، جبکہ وفاق نے ان علاقوں میں 10 فیصد سیلز ٹیکس لگانے کی تجویز دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: تنخواہ دار طبقے کے لیے خوشخبری: وفاقی بجٹ 26-2025 میں انکم ٹیکس کی شرح کم کر دی گئی
بجٹ دستاویزات کے مطابق حکومت نے بجٹ میں رہائشی اور کمرشل پراپرٹی کی الاٹمنٹ اور ٹرانسفر اسٹامپ ڈیوٹی دو فیصد سے کم کر کے ایک فیصد کرنے کی تجویز دی ہے، جبکہ 4.
بجٹ میں ہوٹل بیڈ ٹیکس کو 10 فیصد سے کم کر کے 7 فیصد کرنے کی تجویز ہے، اور 36 ہزار روپے ماہانہ آمدنی والے افراد پر پروفیشنل ٹیکس ختم کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔ حکومت نے بجٹ میں الیکٹرک گاڑیوں کی رجسٹریشن فیس اور ٹوکن ٹیکس معاف کرنے کی تجویز دی ہے۔
سرکاری ملازمین کو 10 فیصد، پنشنرز کو 7 فیصد اضافہ، کم از کم اجرت 40 ہزاروزیر خزانہ نے بجٹ تقریر میں بتایا کہ حکومت نے سرکاری ملازمین کی بنیادی تنخواہ میں 10 فیصد اور پنشن میں 7 فیصد اضافے کی تجویز دی ہے۔ بتایا گیا کہ صوبے میں کم از کم اجرت 37 ہزار سے بڑھا کر 40 ہزار کرنے کی تجویز ہے۔
بتایا گیا کہ بجٹ میں ایگزیکٹو الاؤنس نہ لینے والے سرکاری ملازمین کا ڈسپیرٹی الاؤنس 15 سے بڑھا کر 20 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
’سال 2030 تک بجٹ صرف سرکاری ملازمین کے لیے پورا ہو گا‘لحاظ علی پشاور کے سینئر صحافی ہیں جو معیشت پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ خیبر پختونخوا میں سرکاری ملازمین کی تعداد 6 لاکھ 80 ہزار تک ہے اور صرف ان کی تنخواہوں کے لیے 1100 ارب روپے خرچ ہوں گے، جبکہ صوبے کی مجموعی آبادی تین کروڑ 50 لاکھ سے زائد ہے۔ بجٹ میں صرف پونے 7 لاکھ سرکاری ملازمین پر 1100 ارب سے زائد جبکہ باقی 3 کروڑ 43 لاکھ آبادی کے لیے 250 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحیح معنوں میں دیکھا جائے تو ترقیاتی بجٹ صرف 250 ارب ہے، جبکہ لکھا 547 ارب ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبے میں کوئی بھی سرکاری محکمہ گڈ گورننس کے لیے مثال کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔ ہر سرکاری محکمے میں رشوت اور کمیشن سرعام لی جا رہی ہے، لیکن اس کے باوجود ان کے لیے 1100 ارب سے زائد کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔
لحاظ علی نے کہا کہ زیادتی تو یہ ہے کہ ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کے لیے پنشن کی مد میں 195 ارب روپے کی ادائیگی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ 2030 تک عام آدمی کے لیے بجٹ سکڑ کر صرف سرکاری ملازمین کی تنخواہوں تک محدود ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بجٹ پنشن ترقیاتی منصوبے تنخواہیں خیبرپختونخوا سرکاری ملازمین عوام
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ترقیاتی منصوبے تنخواہیں خیبرپختونخوا سرکاری ملازمین عوام بجٹ دستاویز کے مطابق سرکاری ملازمین کی سرکاری ملازمین پر کرنے کی تجویز ہے کی تجویز دی ہے خیبر پختونخوا نے کہا کہ حکومت نے ارب روپے انہوں نے بنتا ہے فیصد سے کہ صوبے خرچ ہو کے لیے بجٹ کا
پڑھیں:
وفاقی بجٹ 2026-27: پراپرٹی اور ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو کتنے بڑے ٹیکس ریلیف کا امکان؟
وفاقی حکومت آئندہ بجٹ میں ریئل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے کو سہارا دینے کے لیے پراپرٹی ٹیکس نظام میں بڑی تبدیلیاں متعارف کرانے پر غور کر رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق فائلرز کے لیے جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹیکس بوجھ کم کیے جانے کی تجویز ہے جبکہ نان فائلرز کو کسی قسم کی رعایت دیے جانے کا امکان نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بجٹ 27-2026 میں کون سی اشیا سستی ہونے کا امکان ہے؟
ذرائع کے مطابق حکومت ریئل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے اور معاشی سرگرمیوں میں تیزی لانے کے لیے مختلف ٹیکس اصلاحات پر غور کر رہی ہے۔ مجوزہ اقدامات کا مقصد تعمیراتی سرگرمیوں میں اضافہ، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا اور پراپرٹی مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کرنا ہے۔ اس سلسلے میں جائیداد کی خرید و فروخت پر عائد مختلف ٹرانزیکشن ٹیکسز میں کمی کی تجاویز زیر غور ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے پراپرٹی ٹیکسز میں مجوزہ تبدیلیوں سے متعلق عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو بھی آگاہ کردیا ہے۔ حکام کے مطابق ٹیکسوں میں کمی سے ریئل اسٹیٹ مارکیٹ میں خرید و فروخت کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا جس سے سرمایہ کاری کا رجحان بڑھے گا اور مجموعی طور پر حکومتی ٹیکس وصولیوں میں بھی اضافہ متوقع ہے۔
ایف بی آر کے حکام کے مطابق پراپرٹی مارکیٹ میں سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے گزشتہ 3 ماہ کے دوران جائیدادوں کے ویلیو ایشن ریٹس میں 30 سے 35 فیصد تک کمی کی جا چکی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد خرید و فروخت کے عمل کو تیز کرنا اور ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔
بجٹ تجاویز کے تحت فائلرز کے لیے پراپرٹی کی خریداری پر عائد ودہولڈنگ ٹیکس کو موجودہ 1.5 فیصد سے کم کرکے 0.25 فیصد کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔ اسی طرح پراپرٹی فروخت کرنے پر لاگو ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح 4.5 فیصد سے کم کرکے 1.5 فیصد تک لانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے تاکہ ریئل اسٹیٹ مارکیٹ میں سرمایہ کاری اور لین دین کی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکے۔
مزید پڑھیے: آئندہ مالی سال کا بجٹ: کس کو ریلیف ملے گا اور کس پر ٹیکسوں کا بوجھ بڑھے گا؟
دوسری جانب نان فائلرز کے لیے کسی قسم کی ٹیکس رعایت تجویز نہیں کی گئی۔ ذرائع کے مطابق جائیداد کی خرید و فروخت پر نان فائلرز کے لیے عائد مجموعی ٹیکس بوجھ بدستور برقرار رکھنے پر غور کیا جا رہا ہے جس کے تحت انہیں تقریباً 10.5 فیصد تک ٹیکس ادا کرنا پڑ سکتا ہے۔ حکام کا مؤقف ہے کہ مجوزہ ریلیف صرف ٹیکس نیٹ میں شامل افراد تک محدود رکھا جائے گا تاکہ مزید شہریوں کو فائلر بننے کی ترغیب دی جا سکے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ (جولائی تا مارچ) کے دوران پراپرٹی سیکٹر سے متعلق مختلف ٹیکسوں کی وصولیوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس عرصے میں پراپرٹی ٹرانزیکشنز پر عائد ودہولڈنگ ٹیکس کی وصولیاں گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 29 فیصد کم رہیں جبکہ 5 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس کی وصولی میں 68 فیصد اور انکم ٹیکس آرڈیننس کی شق 37A کے تحت وصول کیے جانے والے 10 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس میں 64 فیصد کمی دیکھی گئی۔ اسی طرح شق 7E کے تحت ڈیمڈ انکم ٹیکس کی وصولیوں میں بھی 10 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی جو ریئل اسٹیٹ مارکیٹ میں سست روی کی عکاسی کرتی ہے۔
مزید پڑھیں: بجٹ 27-2026: آئی ایم ایف کا جنرل سیلز ٹیکس بڑھا کر 19 فیصد کرنے کا مطالبہ
ریئل اسٹیٹ کنسلٹنٹس ایسوسی ایشن کے صدر احسن ملک کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کا ریئل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے کو دوبارہ فعال بنانے کا وژن ملکی معیشت کے لیے مثبت نتائج کا حامل ہو سکتا ہے۔
ان کے مطابق ریئل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے سے براہ راست اور بالواسطہ طور پر 45 سے 55 مختلف صنعتیں وابستہ ہیں لہٰذا اس سیکٹر میں سرگرمیوں کے فروغ سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا اور مجموعی معاشی سرگرمیوں کو تقویت ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ 4 فیصد سے زائد معاشی شرح نمو کا ہدف حاصل کرنے کے لیے ریئل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے کو مراعات دینا ناگزیر ہے، کیونکہ اس شعبے کی بحالی سے نہ صرف سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا بلکہ معیشت کے دیگر شعبوں کو بھی تقویت ملے گی۔
یہ بھی پڑھیے: حکومت بجٹ میں عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے کی کوشش کررہی ہے، رانا ثناءاللہ
ذرائع وزارتِ خزانہ کے مطابق پراپرٹی سیکٹر کے لیے مجوزہ ٹیکس ریلیف اور دیگر اصلاحات سے متعلق تجاویز پر عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو اعتماد میں لیا جا چکا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان تجاویز پر حتمی فیصلہ وفاقی بجٹ کی منظوری کے بعد کیا جائے گا جس کے بعد حکومت پراپرٹی ٹیکس نظام میں ممکنہ تبدیلیوں کا باضابطہ اعلان کرے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بجٹ میں ریلف پراپرٹی اور ریئل اسٹیٹ سیکٹر پراپرٹی اور ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو ریلیف ٹیکس ریلیف وفاقی بجٹ 2026-27