اسرائیلی وزیراعظم ایرانی ردعمل سے خوف زدہ، یونان فرار ہو گئے
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
اسرائیلی وزیراعظم ایرانی ردعمل سے خوف زدہ، یونان فرار ہو گئے WhatsAppFacebookTwitter 0 13 June, 2025 سب نیوز
ایتھنز(سب نیوز )اسرائیلی وزیراعظم ایرانی ردعمل سے خوف زدہ ہو کر یونان فرار ہو گئے۔ فرار سے پہلے ایران پر مزید حملوں کی دھمکی بھی دی۔ دنیا بھر میں اسرائیلی سفارتخانے تاحکم ثانی بند، اسرائیل میں بھی ایمرجنسی نافذ ، ائرپورٹس بند کر دیں۔اسرائیلی وزیراعظم کے سر پر ایرانی ردعمل کا خوف سوار ہوگیا۔ نیتن یاہو تل ابیب سے فرار ہو کر یونان پہنچ گئے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا جہاز گیارہ بج کر بائیس منٹ پر ایتھنز پہنچا۔فرارسے قبل نیتن یاہو نے ایران پر مزید حملوں کی دھمکی بھی دی جس میں کہا کہ ایرانی ایٹمی تنصیبات، بلیسٹک میزائل پروگرام اور ایرانی سائنسدانوں کو نشانہ بنایا ہے۔دنیا بھر میں اسرائیلی سفارتخانے تاحکم ثانی بند کر دیے گئے۔ اسرائیل میں بھی ایمرجنسی نافذ کر دی گئی، ائرپورٹس بند کر دیے گئے اور ریزرو فوجیوں کو بھی طلب کر لیا گیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرخیبرپختونخوا کا 2 ہزار 119 ارب روپے کا بجٹ پیش، پنشن، تنخواہیں بڑھا دی گئیں خیبرپختونخوا کا 2 ہزار 119 ارب روپے کا بجٹ پیش، پنشن، تنخواہیں بڑھا دی گئیں پاکستان فٹبال فیڈریشن کا بیرون ملک مقیم 6 خواتین فٹبالرز کو قومی کیمپ میں شامل کرنیکافیصلہ پاکستانی سفارتخانے کی ایران میں پاکستانی شہریوں کو محفوظ مقامات پر رہنے کی ہدایت ماحولیاتی وسائل کو ہتھیار بنانا خطرناک، پانی روکنے پر بھارت کو جواب دیں گے: بلاول بھٹو ایران پر اسرائیلی حملے کے نتیجے میں ہونیوالے جانی نقصان کی تفصیلات سامنے آگئیں خطے میں سیکیورٹی صورتحال کے باوجود پاکستانی فضائی حدود مثر استعمال ہو رہی ہے، حکامCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: اسرائیلی وزیراعظم ایرانی ردعمل فرار ہو
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔