اسرائیل نے خطے کی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا ،ترک صدرکاامیرکویت ٹیلی فون
اشاعت کی تاریخ: 15th, June 2025 GMT
ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان نے کویت کے امیر سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا جس کے دوران دونوں رہنماؤں نے اسرائیل، ایران تنازع سمیت خطے کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
ٹیلی فونک رابطے کے دوران ترک صدر ایردوان نے کہا کہ اسرائیل کے حالیہ حملوں نے پورے خطے کی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
ایردوان نے نیتن یاہو حکومت کو دنیا کے امن و استحکام کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کی جارحانہ پالیسیوں نے امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری مذاکرات کو بھی سبوتاژ کیا ہے۔
ترک صدر نے زور دیا کہ مذاکرات ہی تنازعات کا واحد پرامن حل ہیں اور تمام فریقین کو سفارتی کوششوں کو تقویت دینی چاہیے۔
انہوں نے خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے مشترکہ کاوشوں کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔