پاکستان نے کرپٹو کرنسی ڈیل کے ذریعیبزنس مین ا مریکی صدر ٹرمپ کو رام کیا
ڈبلیو ایل ایف کے درمیان حالیہ کرپٹو کرنسی ڈیل نے بین الاقوامی سطح پر توجہ حاصل کی ہے

فیلڈ مارشل عاصم منیر کو ٹرمپ کی دعوت پر بھارتی میڈیا کی چیخیں نکلنے لگی ہیں۔ بھارتی ویب سائٹ Tatsat Chrronicale پر لکھے گئے ایک مضمون میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان نے کرپٹو کرنسی ڈیل کے ذریعے ٹرمپ کو رام کیا، پاکستان کے ساتھ صدر ٹرمپ نہیں بزنس مین ٹرمپ ڈیل کر رہا ہے، جس نے پاکستان پر پابندیاں لگانے کی بجائے اسے بیل آؤٹ کیا ہے۔ مضمون کے مطابق پاکستان اور ورلڈ لبرٹی فنانشل (ڈبلیو ایل ایف) کے درمیان حالیہ کرپٹو کرنسی ڈیل نے بین الاقوامی سطح پر توجہ حاصل کی ہے، خاص طور پر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے کاروباری مفادات سے اس کے گہرے تعلق کی وجہ سے یہ توجہ کا مرکز بنا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ ڈیل پاکستان کے لیے ایک "بزنس مین ٹرمپ” کا احسان ہے، جس نے اسے پابندیوں سے بچا لیا ہے اور عالمی برادری میں پاکستان کو دہشت گردی کے مرکز کے طور پر پیش کرنے کی کوششوں کو نقصان پہنچایا ہے۔یہ معاہدہ 26 اپریل 2025 کو ہوا، جس میں ڈبلیو ایل ایف (جس کے ٹرمپ خاندان سے گہرے تعلقات ہیں) اور پاکستان کی نئی قائم شدہ کرپٹو کونسل (پی سی سی ) شامل ہیں۔ معاہدے کے تحت پاکستان نے کرپٹو کو اپنے قومی پالیسی میں ضم کرنے اور ایک سٹریٹجک بٹ کوائن ریزرو قائم کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ پہلگام حملے کے چند دن بعد اس معاہدے پر دستخط کیے گئے، جس سے اس کے سٹریٹجک محرکات پر سوالات اٹھائے گئے۔ ناقدین کا خیال ہے کہ یہ اقدام پاکستان کو عالمی مالیاتی اداروں کے روایتی اقتصادی احتساب سے بچنے کی اجازت دے سکتا ہے اور ٹرمپ کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد امریکہ کے قدامت پسند حلقوں سے منسلک ہونے کی خواہش کی نشاندہی کرتا ہے۔ مضمون کے مطابق پاکستان میں بٹ کوائن قانونی طور پر اب بھی ممنوع ہے، جس سے اس منصوبے کی قانونی بنیاد پر سوالات اٹھتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

پڑھیں:

ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔

متعلقہ مضامین

  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • کرپٹو ٹریڈنگ پر 15 تا 30 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس عائد ہونے کا امکان، ذرائع
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری
  • دعا گو ہیں فیلڈ مارشل کی خلیج امن کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
  • دعا گو ہیں جنگ کے خاتمے کیلئے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان