فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے اقوام متحدہ میں پاکستان کی نمائندہ صائمہ سلیم کی ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 19th, June 2025 GMT
سٹی 42: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے اقوام متحدہ میں پاکستان کی نمائندہ صائمہ سلیم کی ملاقات ہوئی ، صائمہ سلیم کی بینائی سے محرومی کے باوجود سفارتی خدمات میں شاندار کامیابیوں پر آرمی چیف نے خراج تحسین پیش کیا
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے صائمہ سلیم کی محنت، جذبے اور پاکستان کے مفادات کے فروغ میں خدمات کو سراہا،
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا صائمہ سلیم کی استقامت اور عزم قوم خصوصاً معذور افراد کے لیے روشن مثال ہے، پاک فوج قومی ترقی میں معذور افراد کی شمولیت و سرپرستی کے لیے پرعزم ہے،
اساتذہ کا اسکولوں سے حاضری لگا کر غائب ہونے کا انکشاف
صائمہ سلیم نے اقوام متحدہ میں اپنی سفارتی سرگرمیوں اور چیلنجز پر آرمی چیف کو بریفنگ دی۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا بھارتی ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی علاقائی عدم استحکام کی جڑ ہے۔
فیلڈ مارشل نے صائمہ سلیم کی عالمی سطح پر پاکستان کے مؤقف کے مؤثر دفاع پر اظہارِ تحسین کیا،صائمہ سلیم نے اپنی ادبی تخلیقات بھی آرمی چیف کو پیش کیں، آئی ایس پی آر کے مطابق یہ ملاقات پاکستانی قوم کی غیر معمولی صلاحیتوں کے اعتراف کا مظہر ہے، خواہ جسمانی معذوری کیوں نہ ہو،
شہر میں مردہ مرغیوں کی سپلائی کرنےوالامافیاسرگرم
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: صائمہ سلیم کی فیلڈ مارشل
پڑھیں:
ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔
ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔
انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ