مختلف شہروں سے 2 کروڑ روپے سے زائد مالیت کی منشیات برآمد
اشاعت کی تاریخ: 22nd, June 2025 GMT
اسلام آبا د:
اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) نے منشیات فروشوں کے خلاف کریک ڈاؤن کرتے ہوئے تعلیمی اداروں کے اطراف اور ملک کے مختلف شہروں میں 7 کامیاب کارروائیاں کیں، جن میں 8 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا۔
ترجمان اے این ایف کے مطابق ان کارروائیوں کے دوران مجموعی طور پر 168.443 کلو گرام منشیات برآمد کی گئی، جن کی مالیت 2 کروڑ 34 لاکھ روپے سے زائد ہے۔
راولپنڈی کے علاقے مریڑ حسن میں اسکول کے قریب کارروائی کے دوران ایک ملزم کے قبضے سے 105 ایکسٹیسی گولیاں برآمد ہوئیں جن کا وزن 55 گرام تھا۔ گرفتار ملزم نے اعتراف کیا کہ وہ یہ گولیاں تعلیمی اداروں کے طلبہ کو فروخت کرتا تھا۔
فیصل آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ریاض جانے والے ایک مسافر کے سامان سے 988 گرام ہیروئن برآمد کی گئی۔ لاہور کے قصور روڈ پر کارروائی میں 3 ملزمان سے 5 کلو ہیروئن اور 3 ڈرونز قبضے میں لیے گئے۔
اسی طرح حیدرآباد کے آٹو بھان روڈ پر ایک کوریئر آفس کے قریب گاڑی سے 3 کلو چرس برآمد ہوئی اور 3 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔ پشاور میں یونیورسٹی روڈ کے قریب ایک گاڑی سے 3 کلو ہیروئن اور 14.
پشاور ہی کے علاقے شاہکاس (خیبر) سے اسمگلنگ کے لیے چھپائی گئی 30 کلو افیون اور 30 کلو چرس برآمد کی گئی جبکہ چاغی کے علاقے داؤد آباد، دالبندین سے 18 کلو چرس برآمد ہوئی۔
ترجمان اے این ایف کے مطابق تمام گرفتار ملزمان کے خلاف انسدادِ منشیات ایکٹ کے تحت مقدمات درج کرکے مزید تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
Tagsپاکستان
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔