Express News:
2026-07-24@04:09:00 GMT

صرف اپنوں پر نوازشیں کیوں؟

اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT

یہ مشہور ہے کہ پیپلز پارٹی جب بھی وفاقی حکومت میں آئی اس نے اپنوں کو نوازا جب کہ مسلم لیگ (ن) جب اقتدار میں آئی اس نے پی پی دور کے بھرتی ہونے والوں کو ملازمتوں سے اس لیے فارغ کیا کہ وہ پی پی دور میں خلاف ضابطہ بھرتی کیے گئے تھے یا مذکورہ محکموں میں گنجائش نہ ہونے کے باوجود بھرتی کیا گیا تھا۔

مسلم لیگ (ن) کے وزیر اعظم میاں نواز شریف کے دور حکومت میں لوگوں کو بہت کم ملازمتیں ملتی تھیں یا سرکاری ملازمت پانے والے سفارش پر ملازم رکھے جاتے تھے یا وہ مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے ہوتے تھے۔

ن لیگ کی تینوں حکومتوں میں یہ ضرور دیکھا گیا کہ اس وقت ملک میں پیسہ ہوتا تھا اور نہ ہی پی پی حکومت کی طرح سرکاری ملازمتوں کی بہتات ہوتی تھی بلکہ ان کی حکومت میں گولڈن شیک ہینڈ کی بنیاد پر لاتعداد سرکاری ملازمین کو ان کی مدت مکمل نہ ہونے کے باوجود فارغ کیا گیا تھا ۔

بے نظیر بھٹو کی ملک میں دو بار حکومتیں رہیں جب کہ میاں نواز شریف تین بار وزیر اعظم رہے جب ان کے بھائی طویل عرصہ وزیر اعلیٰ رہنے کے بعد تین سال سے ملک کے وزیر اعظم تو ہیں لیکن فرق یہ ہے کہ نواز شریف کی تینوں حکومتوں میں پیپلز پارٹی شامل نہیں ہوتی تھی اور بے نظیر بھٹو کی دونوں حکومتوں میں (ن) لیگ اس کی سخت اپوزیشن ہوتی تھی اور پی پی اور (ن) لیگ ایک دوسرے کی مخالف اور ایک دوسرے کی حکومتوں کے خاتمے کے لیے تحریک چلانے میں پیش پیش ہوتے تھے۔

پیپلز پارٹی میں یہ نعرہ بہت مشہور تھا کہ’’ بے نظیر آئے گی اور روزگار لائے گی‘‘ راقم کے آبائی شہر شکارپور سے تعلق رکھنے والے الٰہی بخش سومرو جب (ن) لیگی حکومت میں اسپیکر قومی اسمبلی تھے ، تو ایک بار اسپیکر قومی اسمبلی سے شکارپور جمخانہ میں ملاقات ہوئی تو راقم نے سومرو صاحب سے کہا تھا کہ’’ آپ بزرگ شخص ہیں اور میاں صاحب آپ کی باتوں کو اہمیت بھی دیتے ہیں تو آپ وزیر اعظم کو بتائیں کہ ان کی حکومت میں نہ ملک میں پیسہ ہوتا ہے اور نہ ہی سرکاری ملازمتیں جب کہ بے نظیر حکومتوں میں ملک میں پیسہ بھی ہوتا تھا اور لوگوں کو سرکاری ملازمتیں بھی ملتی تھیں۔‘‘

واضح رہے کہ بے نظیر بھٹو کی پہلی حکومت میں وہ اکثر کہتی تھیں کہ قومی خزانہ خالی ہے تو انھی دنوں صدر مملکت غلام اسحاق خان شکارپور آئے تھے تو راقم نے ان سے پوچھا تھا کہ’’ وزیر اعظم کہتی ہیں کہ خزانہ خالی ہے تو اقتدار کی منتقلی کے وقت آپ قائم مقام صدر مملکت تھے اور آپ خود وزیر اعظم بھی رہے ہیں تو کیا وزیر اعظم صاحبہ کی بات درست ہے؟‘‘ جس پر صدر مملکت نے مسکرا کر صرف یہ جواب دیا تھا کہ’’ ملک کا خزانہ مغلوں کا خزانہ نہیں ہے کہ جہاں رات کو مال آتا تھا اور صبح خالی ہو جاتا تھا۔‘‘ صدر مملکت کا یہ جواب ملک کے اخبارات میں شہ سرخیوں کے ساتھ نمایاں شایع ہوا تھا جس کے بعد وزیر اعظم صاحبہ نے خزانہ خالی ہونے کی بات کرنا چھوڑ دی تھی۔

باری باری کی 1999 تک پی پی اور (ن) لیگی حکومتوں میں یہ بھی ہوتا رہا کہ پی پی حکومت لوگوں کو روزگار دیتی تھی اور (ن) لیگی حکومت برسر روزگار لوگوں کو بے روزگار کر دیتی تھی۔ مسلم لیگ (ن) کیسابق حکومتوں میں کبھی اتنی بڑی کابینہ نہیں رہی جتنی بڑی کابینہ اب موجودہ حکومت میں ہے اور 2022 میں پی ڈی ایم اور پی پی حکومت تھی اور شہباز شریف ہی وزیر اعظم تھے اور پیپلز پارٹی نے اپنے چیئرمین کو وزیر خارجہ، پارٹی کے متعدد رہنماؤں کو وفاقی وزیر اور لاتعداد اپنے ارکان اسمبلی اور رہنماؤں کو مشیر اور معاونین خصوصی بنایا تھا جب کہ اس وقت ملک دیوالیہ ہونے کے قریب، معاشی حالات نہایت ہی ابتر مگر حکومتی عہدوں پر پی پی، (ن) لیگ اور جے یو آئی بڑی تعداد میں براجمان تھے اور کسی کو ملک کی بدحالی کا احساس نہیں تھا ۔ یہی حال 2018 سے 2022 تک پی ٹی آئی حکومت میں تھا جہاں اپنوں کو نوازنے میں کسر نہیں چھوڑی گئی تھی۔

لندن میں سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ’’ مجھ میں اور شہباز شریف میں کوئی فرق نہیں ہم دونوں ایک ہیں۔‘‘ میاں نواز شریف اور وزیر اعظم شہباز شریف کے درمیان ماضی میں اسٹیبلشمنٹ کے سلسلے میں واضح فرق رہا ہے جو شاید ملکی حالات نے ختم کر دیا ہے اور نواز شریف کا سابقہ بیانیہ اب موقعہ دیکھ کر بانی پی ٹی آئی اپنا چکے ہیں کیونکہ ان کے پاس عوام کو دکھانے کے لیے اب کوئی بیانیہ نہیں تھا جو انھیں جیل سے رہائی دلا سکے اور ان کے اقتدار میں بالاتروں سے جیسے تعلقات تھے اس سے کہیں اچھے تعلقات اب وزیر اعظم شہباز شریف کے ہیں۔ میاں نواز شریف کی تینوں حکومتوں میں ان کی مرضی کی وفاقی کابینہ ہوتی تھی جس میں وزیروں کی کچن کیبنٹ ہوتی تھی مگر اب ایسا نہیں ہے۔

وزیر اعظم کی کابینہ میں ان کے قریبی پسندیدہ بعض وزرا بھی موجود ہیں اور ان کی کوئی کچن کیبنٹ بھی نہیں ہے جس کا ملک بھر میں سب کو پتا ہے۔ شہباز شریف بڑے میاں صاحب کے برعکس اپنوں کے لیے بڑے مخیر ثابت ہوئے ہیں اور موجودہ حکومت کی فیاضی کا یہ حال ہے کہ پارلیمنٹ کے سربراہوں کی پانچ گنا تنخواہ بڑھا کر سب کو حیران کر دیا ہے اور ملک میں ہونے والے اعتراض پر اضافے کی رپورٹ بھی طلب کر لی ہے۔ چھوٹے میاں صاحب نے وزیر اعظم بن کر اپنوں کے علاوہ ارکان پارلیمنٹ، وزیروں اور ججز حضرات و دیگر کی تنخواہیں حیرت انگیز طور پر بڑھائیں اور ایوان صدر اور وزیر اعظم کے اخراجات میں جس طرح اضافہ ہوا، اس کی مثال ان کے بڑے بھائی کی حکومتوں میں بھی نہیں ملتی ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: میاں نواز شریف پیپلز پارٹی حکومتوں میں شہباز شریف حکومت میں صدر مملکت لوگوں کو کی حکومت مسلم لیگ ہوتی تھی ملک میں تھی اور میں پی ہے اور تھا کہ

پڑھیں:

مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم

وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے انسانی و مکینل وسائل بروئے کار لانے کا حکم دے دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا ہے کہ دریاؤں، ڈیموں اور بیراج پر نہانے پر پابندی یقینی بنائی جائے اور دریاؤں، ڈیموں اور بیراج کی ڈرون سے مانیٹرنگ کی جائے۔انہوں نے کہا کہ عوام کو بارش اور فلڈ سے آگاہ کرنے کے لیے مساجد اور میڈیا پر اعلانات کیے جائیں۔کرنٹ لگنے سے ہلاکتوں پر مریم نواز نے لیسکو اور دیگر بجلی تقسیم کار کمپنیوں کو نوٹس لینے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی غفلت کی وجہ سے لوگ جان سے ہاتھ دھو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کھمبوں پر بجلی کے بے ہنگم لٹکتے تار انسانی جانوں کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے واسا کمپلینٹ ہیلپ لائن پر فوری ایکشن کا ریکارڈ مرتب کرنے کی ہدایت کی۔مریم نواز نے مون سون کے دوران ہر کنسٹرکشن سائٹ کو باقاعدہ محفوظ بنانے کی ہدایت دی اور کہا کہ انتظامیہ خستہ حال عمارتوں کا جائزہ لے کر رضاکارانہ طور پر خالی کروائے۔

متعلقہ مضامین

  • نواز شریف کل میرپور میں انتخابی جلسے سے خطاب کریں گے
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری