دنیا کو مبارک ہو، امن کا وقت آ گیا ہے
اشاعت کی تاریخ: 24th, June 2025 GMT
واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 جون 2025ء ) امریکی صدر کا کہنا ہے کہ دنیا کو مبارک ہو، امن کا وقت آ گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ایران کی جانب سے قطر میں امریکی ائیربیس پر کیے جانے والے میزائل حملے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اہم بیان سامنے آیا ہے۔ اپنے بیان میں امریکی صدر نے کہا ہے کہ دنیا کو مبارک ہو، امن کا وقت آ گیا ہے۔ خطے میں امن کیلئے امیر قطر کی کاوشوں کو سراہتا ہوں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے 14 میزائل داغے جن میں سے 13 کو مار گرایا، ایک میزائل کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا تھا اس لیے اسے نظرانداز کیا، ایران کا شکریہ کہ حملے سے قبل ہی پیشگی اطلاع دے دی تھی، ایران کی پیشگی اطلاع کی وجہ سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ امریکی صدر نے مزید کہا کہ اب ایران خطے میں امن کیلئے قدم بڑھائے ۔(جاری ہے)
اس سے قبل غیر ملکی خبر ایجنسی رائیٹرز کی جانب سے قطر میں امریکی ائیر بیس پر ایران کے حملے سے متعلق بڑا دعوٰی کیا گیا۔
رائیٹرز کے مطابق ایران کی جانب سے قطر میں العدید ائیربیس کو نشانہ بنانے سے قبل قطر اور امریکا کو آگاہ کر دیا گیا تھا۔ ایران کی جانب سے سفارتی چینل کے ذریعے قطر اور امریکا کو حملے کی پیشگی اطلاع فراہم کی گئی۔ جبکہ قطر کے وزیردفاع کے مطابق دفاعی نظام نے امریکی فوجی اڈے پر میزائل حملے کو روک دیا۔ میڈیا کے مطابق وزیردفاع قطر کا کہنا ہے کہ ایرانی حملے کے بعد جواب دینے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔ ایرانی اقدامات سے خطے میں سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچے گا، قطر کی فضائی حدود اور علاقہ محفوظ ہے۔ ایرانی میزائل حملوں میں کوئی ہلاکت یا زخمی نہیں ہوا۔ عرب میڈیا کے مطابق دوحہ میں ایئرڈیفنس سسٹم فعال کردیا گیا۔ دوسری جانب حملوں کے بعد ترجمان پاسداران انقلاب نے قطر میں امریکی فوجی اڈے پر حملے کی تصدیق کردی ہے۔ ترجمان پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ امریکی اڈے پر حملے دوست اور برادر ملک قطر کیلئے خطرہ نہیں، العدید ایئربیس پر حملہ پاسدران انقلاب کی جانب سے کیا گیا۔ قطر میں امریکا کے زیرانتظام العدید ایئربیسن کو نشانہ بنایا گیا۔ ترجمان آئی آرجی سی کے مطابق امریکی اڈے جنگ بھڑکانے والی حکومت کی کمزوری ہیں طاقت نہیں ۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے امریکی صدر میں امریکی کی جانب سے کے مطابق ایران کی
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔