دنیا کو مبارک ہو، امن کا وقت آ گیا ہے
اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT
واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 جون 2025ء ) امریکی صدر کا کہنا ہے کہ دنیا کو مبارک ہو، امن کا وقت آ گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ایران کی جانب سے قطر میں امریکی ائیربیس پر کیے جانے والے میزائل حملے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اہم بیان سامنے آیا ہے۔ اپنے بیان میں امریکی صدر نے کہا ہے کہ دنیا کو مبارک ہو، امن کا وقت آ گیا ہے۔ خطے میں امن کیلئے امیر قطر کی کاوشوں کو سراہتا ہوں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے 14 میزائل داغے جن میں سے 13 کو مار گرایا، ایک میزائل کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا تھا اس لیے اسے نظرانداز کیا، ایران کا شکریہ کہ حملے سے قبل ہی پیشگی اطلاع دے دی تھی، ایران کی پیشگی اطلاع کی وجہ سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ امریکی صدر نے مزید کہا کہ اب ایران خطے میں امن کیلئے قدم بڑھائے ۔(جاری ہے)
اس سے قبل غیر ملکی خبر ایجنسی رائیٹرز کی جانب سے قطر میں امریکی ائیر بیس پر ایران کے حملے سے متعلق بڑا دعوٰی کیا گیا۔
رائیٹرز کے مطابق ایران کی جانب سے قطر میں العدید ائیربیس کو نشانہ بنانے سے قبل قطر اور امریکا کو آگاہ کر دیا گیا تھا۔ ایران کی جانب سے سفارتی چینل کے ذریعے قطر اور امریکا کو حملے کی پیشگی اطلاع فراہم کی گئی۔ جبکہ قطر کے وزیردفاع کے مطابق دفاعی نظام نے امریکی فوجی اڈے پر میزائل حملے کو روک دیا۔ میڈیا کے مطابق وزیردفاع قطر کا کہنا ہے کہ ایرانی حملے کے بعد جواب دینے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔ ایرانی اقدامات سے خطے میں سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچے گا، قطر کی فضائی حدود اور علاقہ محفوظ ہے۔ ایرانی میزائل حملوں میں کوئی ہلاکت یا زخمی نہیں ہوا۔ عرب میڈیا کے مطابق دوحہ میں ایئرڈیفنس سسٹم فعال کردیا گیا۔ دوسری جانب حملوں کے بعد ترجمان پاسداران انقلاب نے قطر میں امریکی فوجی اڈے پر حملے کی تصدیق کردی ہے۔ ترجمان پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ امریکی اڈے پر حملے دوست اور برادر ملک قطر کیلئے خطرہ نہیں، العدید ایئربیس پر حملہ پاسدران انقلاب کی جانب سے کیا گیا۔ قطر میں امریکا کے زیرانتظام العدید ایئربیسن کو نشانہ بنایا گیا۔ ترجمان آئی آرجی سی کے مطابق امریکی اڈے جنگ بھڑکانے والی حکومت کی کمزوری ہیں طاقت نہیں ۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے امریکی صدر میں امریکی کی جانب سے کے مطابق ایران کی
پڑھیں:
امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
امریکا کے ریپبلکن اکثریتی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کر لی جسے کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی
قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔
یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال نے پیش کی جس میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔
تاہم ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بھی کانگریس اس نوعیت کی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے مگر ان کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں نہیں رک سکیں۔
مزید پڑھیے: ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ
قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ (مشی گن)، برائن فٹزپیٹرک (پنسلوانیا)، وارن ڈیوڈسن (اوہائیو) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل ہیں۔
Today, the House PASSED my bipartisan War Powers Resolution to end the war in Iran by a vote of 214-208.
This is a big victory for the vast majority of Americans who want President Trump to end this illegal war and focus on their lives right here at home. pic.twitter.com/ZaE3NtTJdP
— Rep. Pramila Jayapal (@RepJayapal) July 23, 2026
اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس قرارداد کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کے تحفظات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
ادھر امریکی سینیٹ میں بھی ایران سے متعلق ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد پر ووٹنگ متوقع تھی۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔
مزید پڑھیں: ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ
صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب، عارضی جنگ بندی کے مؤثر طور پر ختم ہونے کے 2 ہفتے بعد امریکی فوج نے ایران پر ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امریکی ایوان نمائندگان ایران امریکا کشیدگی ٹرمپ کو جنگ روکنے کی ہدایت ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز