چین۔جنوبی ایشیا ایکسپو نے خطے کی خوشحالی کے لیے سنہری پل تعمیر کیا ، چینی میڈیا WhatsAppFacebookTwitter 0 25 June, 2025 سب نیوز

بیجنگ :بحیرہ بوہائی کے کنارے تھیان جن میں سمر ڈیووس فورم کے جدید افکار نے عالمی معیشت کی نئی راہیں روشن کیں ۔ بہاروں کے شہر کھون منگ میں، چین۔جنوبی ایشیا ایکسپو نے خطے کی خوشحالی کے لیے سنہری پل تعمیر کیا ۔ بحیرہ زرد کے کنارے واقع چھنگ ڈاؤ میں ملٹی نیشنل کارپوریشنز کے رہنماؤں کے سربراہ اجلاس نے جیت جیت اور فائدہ مند تعاون کے دور کی ایک مضبوط دھن ترتیب دی۔اس موسم گرما کے آغاز سے، چین کے مختلف شہروں میں بڑے پیمانے اور اعلیٰ معیار کے بین الاقوامی فورمز کا ایک سلسلہ منعقد ہوا ہے.

علاقائی تعاون سے لے کر صنعتی ہم آہنگی تک، روایتی تجارت سے لے کر سائنسی اور تکنیکی جدت طرازی تک، ان شاندار نمائشوں نے نہ صرف چینی معیشت کی بھرپور قوت کا مظاہرہ کیا، بلکہ چین کے کھلے پن کو وسعت دینے، دنیا کے ساتھ ترقی کے مواقع کا اشتراک کرنے اور ایک کھلی عالمی معیشت کی تعمیر کے لئے مل کر کام کرنے کے پختہ عزم کو بھی اجاگر کیا ہے ۔ تمام سرگرمیوں کے پرجوش مناظر چین کے مواقع کے بارے میں دنیا کی گہری توقعات کی عکاسی کرتے ہیں۔ عالمی اقتصادی فورم کے نئے چیمپئنز کا سولہواں سالانہ اجلاس(سمر ڈیووس 2025) میں 90 سے زائد ممالک اور خطوں سے تقریباً 1800 مندوبین شریک ہیں ،

شرکاء کی تعداد کے لحاظ سے یہ ایک نیا ریکارڈ ہے ۔ نو یں چین-جنوبی ایشیا ایکسپو نے 73 ممالک، خطوں اور بین الاقوامی تنظیموں کے 2500 سے زیادہ کاروباری اداروں کو شرکت کے لیے راغب کیا۔ ملٹی نیشنل کارپوریشنز کے رہنماؤں کے چھٹے چھنگ ڈاؤ سربراہی اجلاس میں 43 ممالک اور خطوں کے 570 کاروباری رہنماؤں کا خیرمقدم کیا گیا۔ جولائی میں بیجنگ میں منعقد ہونے والی تیسری چائنا انٹرنیشنل سپلائی چین ایکسپو میں اب تک 75 ممالک و خطوں کی 650 سے زائد مقامی و غیر ملکی کمپنیوں و اداروں نے حصہ لینے کی حامی بھر لی ہے، جن میں دنیا کے ٹاپ 500 اور صنعت کی سربراہ کمپنیوں کا تناسب 65 فیصد سے زیادہ ہے۔ یہ اعداد و شمار زیادہ سے زیادہ عالمی سرمائے اور دانش مندی کی ایک روشن تصویر پیش کرتے ہیں جو چین کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لئے تیار ہیں۔ان تجارتی سرگرمیوں کی مقبولیت میں مسلسل اضافہ چین کے بڑھتے ہوئے بین الاقوامی اثر و رسوخ اور مارکیٹ کشش کا ایک واضح مظہر ہے۔ چین-جنوبی ایشیا ایکسپو کے جنوبی ایشیائی اور جنوب مشرقی ایشیائی پویلین میں چہل قدمی کے دوران پاکستان کے جیڈ نقش و نگار روشنی بکھیرتے نظر آتے ہیں ، نیپال کا پشمینہ بادل کی طرح نرم ہے، افغانستان کے قالین ہزار سالہ تہذیب کو سمیٹے ہوئے ہیں، انڈونیشیا کے مصالحے ذائقوں کی یاد تازہ کر دیتے ہیں… ان تمام اشیاء نے ایک شاندار اور رنگا رنگ بین الاقوامی تجارتی راہداری قائم کی ہے ۔یا درہے کہ گزشتہ آٹھ ایکسپو ز میں غیر ملکی تجارتی لین دین کی کل مالیت 110 بلین امریکی ڈالر سے زیادہ تک پہنچ چکی ہے ۔ یہ ایکسپو چین اور جنوبی ایشیائی ممالک کے درمیان تبادلوں کو بڑھانے ، تعاون کو گہرا کرنے اور مشترکہ ترقی کے حصول کا ایک اہم پلیٹ فارم بن گئی ہے ۔

وزارت تجارت کے اعداد و شمار کے مطابق چین اور جنوبی ایشیائی ممالک کے درمیان تجارتی حجم 2024 میں 200 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا ، جو دس سالوں میں دوگنا ہوا ہے ،جس کی اوسط سالانہ شرح نمو تقریباً 6.3 فیصد ہے ۔ چین کئی سالوں سے پاکستان، بنگلہ دیش اور دیگر ممالک کے سب سے بڑے تجارتی شراکت دار کی حیثیت سے اپنی پوزیشن برقرار رکھے ہوئے ہے،

جس نے باہمی فائدہ مند تعاون کی مضبوط قوت کا مظاہرہ کیا ہے۔یہ نمائشیں نہ صرف تجارتی تبادلے کے لئے ایک پلیٹ فارم ہیں بلکہ صنعتی تعاون کے لئے بھی ایک پل ہیں۔ چین –جنوبی ایشیا ایکسپو سے لے کر حال ہی میں اختتام پذیر ہونے والی سلک روڈ انٹرنیشنل ایکسپو، چائنا- مشرقی اور وسطی یورپ ایکسپو، ویسٹرن چائنا انٹرنیشنل ایکسپو وغیرہ اور آئندہ ماہ منعقد ہونے والی چائنا انٹرنیشنل سپلائی چین پروموشن ایکسپو تک، یہ سلسلہ وار بین الاقوامی تقاریب کھلے پن کے ساتھ چین اور عالمی برادری کے درمیان گہرے تعاون کی شاہراہ تعمیر کر رہی ہیں ۔ اپنی مضبوط شمولیت اور مستحکم ترقی کی لچک کے ساتھ ، چین کی معیشت نہ صرف عالمی مصنوعات کے لئے ایک وسیع مارکیٹ فراہم کرتی ہے ، بلکہ اختراعی اور سپلائی چین میں عالمی تعاون کا ایک نیا نظام حیات بھی تشکیل دیتی ہے ، جس سے بین الاقوامی شراکت داروں کو چین کے ترقیاتی منافع کو بانٹنے اور ترقی کا خاکہ تشکیل دینے کا موقع ملتا ہے۔ عالمی معیشت کو درپیش متعدد چیلنجز اورغیر یقینی صورتحال کے پیش نظر چین نے کھلے انداز میں مختلف بین الاقوامی تقریبات کے ذریعے تعاون کے پلیٹ فارمز تعمیر کئے ہیں ، تجارتی چینلز کو ہموار کیا ہے، باہمی فائدہ مند تعاون اور جیت جیت کو فروغ دیا ہے اور ترقی پر اتفاق رائے قائم کیا ہے۔

جیسا کہ چینی صدر شی جن پھنگ نے کہا کہ “صرف متحد ہو کر ہی ہم جیت جیت کے نتائج حاصل کر سکتے ہیں، اور صرف مل کر کام کرتے ہوئے ہی ہم مشترکہ ترقی کر سکتے ہیں۔”خیالات کے امتزاج اور بڑھتے ہوئے کاروباری مواقع کے ساتھ ان بین الاقوامی تقریبات نے چین کے اعلیٰ سطحی کھلے پن کو بھی ایک اہم تحریک فراہم کی ہے، جو اعلیٰ معیار کی ترقی کے ساتھ عالمی معیشت کے استحکام کو فروغ دینے کے لیے ایک بڑے ملک کی حیثیت سے اپنی ذمہ داری کا مظہر ہے۔ یہاں، بین الاقوامی کاروباری اداروں کو نہ صرف مارکیٹ کے مواقع ملے ہیں، بلکہ چین کے ساتھ مل کر ترقی کا اعتماد بھی حاصل ہوا ہے، اور مشترکہ طور پر کھلی عالمی معیشت میں ایک نیا باب رقم کیا گیا ہے.

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچین مشرق وسطیٰ میں پائیدار اور موثر جنگ بندی کی امید رکھتا ہے، چینی وزارت خارجہ بین الاقوامی اقتصادی اور تجارتی صورتحال گہری تبدیلیوں سے گزر رہی ہے، چینی وزیر اعظم ایس سی او کے رکن ممالک کی سلامتی کونسل کے سیکرٹریوں اور وزرائے دفاع کے اجلاس میں سلامتی سے متعلق امور پر غور جب دنیا “چین کو ٹٹولتے ہوئے دریا پار کرنے” لگی،چینی میڈیا نویں چین۔ جنوبی ایشیا ایکسپو باضابطہ طور پر اختتام پذیر ہو گئی چین اور موزمبیق کے درمیان دوستی چٹان کی طرح مضبوط ہے، چینی صدر ڈاکٹر محمد امجد’’پاکستان چائنہ بزنس ڈویلپمنٹ کمیٹی ‘‘کے کنوینر مقرر TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: چین جنوبی ایشیا ایکسپو نے کے لیے

پڑھیں:

سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب

سٹی 42: گلگت بلتستان انتخابات کے سلسلے میں اسکردو میں پاکستان پیپلز پارٹی کے جلسے سے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کا منصوبہ دنیا کا سب سے بڑا ہاؤسنگ پراجیکٹ ہے، جبکہ حقیقی ترقی امیروں کو مزید مراعات دینے کے بجائے غریبوں کو روزگار اور مواقع فراہم کرنے سے ممکن ہے۔

 بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو ان کے آئینی اور جمہوری حقوق دینا ملکی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کو 18ویں ترمیم جیسے اختیارات دینے کی حامی ہے اور اسلام آباد کو یہاں کے عوام کے حقِ ملکیت کو تسلیم کرنا ہوگا۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

 چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ تھر کول منصوبے میں 80 فیصد ملازمتیں مقامی افراد کو دی گئیں، جو ان کی جماعت کے عوام دوست وژن کا عملی ثبوت ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گلگت بلتستان کے دوروں کے حوالے سے وہ دیگر تمام سیاسی رہنماؤں سے زیادہ مرتبہ یہاں آ چکے ہیں۔

 خطاب کے دوران بلاول بھٹو زرداری نے ملکی دفاعی صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام شہید ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں شروع ہوا جبکہ میزائل پروگرام کو شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے آگے بڑھایا۔ انہوں نے کہا کہ سابق صدر آصف علی زرداری نے پاکستان میں غیر ملکی فوجی اڈوں کی موجودگی کا خاتمہ کیا تھا۔

غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات

 سماجی بہبود کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ہر صورت محفوظ رکھا جائے گا اور آئندہ بجٹ میں اس پروگرام کے فنڈز میں اضافے کی کوشش کی جائے گی۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی غریب اور پسماندہ طبقات کی نمائندہ جماعت ہے اور عوامی فلاح کے منصوبوں کو جاری رکھے گی۔

 علاقائی اور عالمی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ خطے میں جاری کشیدگی اور جنگوں کے اثرات پوری مسلم دنیا اور عالمی معیشت پر مرتب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے امن کے قیام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جنگوں کے خاتمے اور استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششیں کامیاب ہوں گی۔

 نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ

 انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ہمیشہ امن، جمہوریت اور عوامی حقوق کی سیاست پر یقین رکھتی ہے اور آئندہ بھی عوام کے مفادات کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔

 بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آپ نے فیصلہ کرنا ہے ، عوام دوست یا عوام دشمن حکومت بنانی ہے ،ہماری غریب دوست اور ان کی عوام دشمن سیاست ہے ، میں نے سیلاب متاثرہ عوام کے لیے گھر بنا کر دیکھائے ۔ انھوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو روزگار دیں ،دوسری جماعتوں کی کوشش ہوتی ہے کہ کیسے لوگوں کو بے روز گار کریں ۔

 آزاد کشمیر:تعلیمی اداروں میں گرمیوں کی چھٹیوں کا اعلان

 گلگت بلتستان میں انتخابی مہم کے سلسلے میں اسکردو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کی دفاعی طاقت کی بدولت آج کوئی بھی ملک پاکستان کی جانب میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے قوم کو ایٹمی پروگرام کا تحفہ دیا، جبکہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے میزائل پروگرام کو آگے بڑھایا اور ملکی دفاع کو مزید مضبوط بنایا۔

لاہور بورڈ کا بڑا فیصلہ، داخلہ فارم مکمل طور پر آن لائن کرنے کی تجویز

 بلاول بھٹو زرداری نے سابق فوجی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مشرف دور میں غیر ملکی طاقتوں کو پاکستان کی سرزمین پر اڈے قائم کرنے کی اجازت دی گئی تھی، تاہم سلالہ واقعے کے بعد صدر آصف علی زرداری نے ایسے تمام اڈوں کو بند کروا کر غیر ملکی افواج کو واپس بھیج دیا۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ ان کی جماعت پاکستان کو ہر شعبے میں مضبوط اور خودمختار دیکھنا چاہتی ہے۔ ان کے بقول پاکستان پیپلز پارٹی واحد سیاسی جماعت ہے جو ملک کو مزید مستحکم اور عوامی فلاح کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے۔

 انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ عوام کو معاشی ریلیف فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے ہیں اور اسی سوچ کے تحت بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) متعارف کرایا گیا، جس کے ذریعے غریب اور مستحق خاندانوں کو مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بی آئی ایس پی اسلام آباد یا کسی ایک علاقے کا نہیں بلکہ پورے پاکستان کے عوام کا پروگرام ہے، تاہم بعض سیاسی عناصر اسے ختم کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔

 انہوں نے اعلان کیا کہ چاہے گلگت بلتستان کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کے امیدوار کامیاب ہوں یا نہ ہوں، وزیراعظم آئندہ بجٹ میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے فنڈز میں اضافے کا اعلان کریں گے تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحق افراد کو ریلیف فراہم کیا جا سکے،انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پیپلز پارٹی آئندہ بھی عوامی فلاح، معاشی استحکام اور قومی خودمختاری کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔

متعلقہ مضامین

  • ارکان پارلیمنٹ کی رہائش کیلیے فیملی سوٹس؛ بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص کرنے کی تجویز
  • بجٹ میں اراکین پارلیمنٹ کے لاجز کی تعمیر کیلئے ڈیڑھ ارب روپے مختص کرنے کی تجویز
  • اٹلی‘ 4 پاکستانی قتل: مکمل معلومات نہیں ملیں: دفتر خارجہ 
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان