قیام امن کیلئے امریکی صدر کے زبردست اقدامات کو سراہتے ہیں: محسن نقوی
اشاعت کی تاریخ: 27th, June 2025 GMT
---فائل فوٹو
وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ قیامِ امن کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے زبردست اقدامات کو سراہتے ہیں۔
امریکا کی قائم مقام سفیر نیٹلی بیکر سے گفتگو کے دوران محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان کشمیر سمیت دیگر تنازعات مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا خواہاں ہے۔
انہوں نے نیٹلی بیکر سے ملاقات کے دوران علاقائی صورتحال اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی امریکی صدر سے ملاقات پر بھی تفصیلی گفتگو کی۔
وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے یہ بھی کہا کہ امید ہے ڈونلڈ ٹرمپ غزہ میں بھی جنگ بندی کرائیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: محسن نقوی
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔