کراچی؛ کرنٹ لگنے سے پیپلز پارٹی رہنما جاوید ناگوری کے بھائی انتقال کر گئے
اشاعت کی تاریخ: 29th, June 2025 GMT
سٹی 42: کراچی میں کرنٹ لگنے سےپاکستان پیپلز پارٹی(پی پی پی ) کے رہنما جاوید ناگوری کے بھائی انتقال کر گئے۔
سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) سٹی عارف عزیز کے مطابق عبداللّٰہ ناگوری اتوار کی دوپہر اپنی اوطاق میں بجلی کا کوئی کام کر رہے تھے کہ اس دوران انہیں کرنٹ لگ گیا جس سے وہ موقع پر ہی چل بسے،انہیں فوری طور پر قریبی ہسپتال بھی لے جایا گیا لیکن ڈاکٹروں نے معائنے کے بعد ان کی موت کی تصدیق کر دی، پولیس نے ضروری کارروائی کے بعد لاش ورثاء کے حوالے کر دی۔
انڈیا کی فلم لاہور میں چل گئی کیونکہ یہ فلم پنجابی زبان کی ہے۔
ایس ایس پی عارف عزیز نے بتایا ہے کہ عبداللّٰہ ناگوری پیپلز پارٹی کے رہنما جاوید ناگوری کے بھائی تھے،واقعے کے بعد پیپلز پارٹی کی لیڈر شپ نے جاوید ناگوری سے ان کے بھائی کے انتقال پر تعزیت کا اظہار بھی کیا ہے۔
چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نےپاکستان پیپلز پارٹی ضلع جنوبی کے صدر و جنرل سیکریٹری کراچی ڈویڑن جاوید ناگوری سے تعزیت کا اظہار کیا ہے،پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نےجاوید ناگوری سے ان کے بھائی عبداللہ کے انتقال پر افسوس و ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے ہے کہ دکھ کی اس گھڑی میں مجھ سمیت پوری پارٹی آپ کے ساتھ ہے ،بلاول بھٹو زرداری نے مرحوم کے لیے جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام کی دعا کی ہے
قوتِ خرید 58 فیصد کم ہوگئی، سابق بینکر شبلی فراز کی سینئیربینکر وزیرخزانہ پر تنقید
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے جاوید ناگوری سے ان کے بھائی عبداللہ ناگوری کے انتقال پر دلی افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ میری دعائیں اور ہمدردیاں انکے اہلخانہ ساتھ ہیں،اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنی جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل دے۔
وزیر بلدیات سندھ و صدر پاکستان پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن سعید غنی نے بھی جاوید ناگوری کے بھائی عبداللہ ناگوری کے انتقال پر اپنے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے،سعید غنی نے ان کے حق میں دعا کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالٰی مرحوم کی مغفرت فرمائے اور انہیں اپنی جوار رحمت میں اعلٰی مقام عطا فرمائے،اللہ تعالٰی مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور جاوید ناگوری سمیت تمام اہلخانہ کو صبر جمیل عطا فرمائیں۔
ایران نے نگراں کیمرے ہٹا دیئے
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: کے انتقال پر پیپلز پارٹی کا اظہار
پڑھیں:
تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظات
پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا
پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل
عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟
گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔