Juraat:
2026-07-24@05:07:08 GMT

ذیابیطس مریضوں کو تربوز سے اجتناب کیوں کرنا چاہیے؟

اشاعت کی تاریخ: 30th, June 2025 GMT

ذیابیطس مریضوں کو تربوز سے اجتناب کیوں کرنا چاہیے؟

ذیابیطس کے مریضوں کو تربوز کھانے میں احتیاط برتنی چاہیے کیونکہ اگرچہ یہ ایک صحت مند، پانی سے بھرپور پھل ہے لیکن اس کے اندر موجود قدرتی شکر اور گلائسیمک انڈیکس ذیابیطس کے مریضوں پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔

تربوز کا گلائسیمک انڈیکس تقریباً 72 ہے جو اسے تیزی سے شوگر بڑھانے والا پھل بناتا ہے ۔زیادہ گلائسیمک انڈیکس والے کھانے خون میں گلوکوز کی سطح کو تیزی سے بڑھاتے ہیں، جو ذیابیطس کے مریضوں کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب تربوز کا گلائسیمک لوڈ کم ہوتا ہے (تقریباً 5 فی 100 گرام) لیکن اگر زیادہ مقدار میں کھایا جائے تو یہ شوگر لیول پر اثرانداز ہو سکتا ہے۔ تربوز میں جو قدرتی مٹھاس پائی جاتی ہے ، وہ فرکٹوز ہے جو اگر بڑی مقدار میں لیا جائے تو انسولین کے مؤثر عمل کو متاثر کر سکتا ہے۔ خاص طور پر ٹائپ 2 ذیابیطس میں، جسم شوگر کو مؤثر طریقے سے استعمال نہیں کر پاتا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: سکتا ہے

پڑھیں:

کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔

اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔ 

خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔ 

خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔  

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • پشاور: حیات میڈیکل کمپلیکس میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال دوسرے روز بھی جاری، مریض مشکلات سے دوچار
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن