سونا خریدنا خواب بن گیا؛ قیمت میں عالمی اور مقامی سطح پر ایک بار پھر بڑا اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT
کراچی:
سونے کی عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں قیمتوں میں آج پھر بڑا اضافہ ہوا، جس کے باعث سونا غریب کی پہنچ سے باہر ہوگیا۔
بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت میں 66ڈالر کا اضافہ ہونے سے نئی عالمی قیمت 3ہزار 348ڈالر کی سطح پر آ گئی۔
دوسری جانب مقامی صرافہ مارکیٹوں میں منگل کے روز بھی سونے کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان غالب رہا، جس کے نتیجے میں مقامی سطح پر 24 قیراط کے حامل فی تولہ سونے کی قیمت 6ہزار 600روپے کے اضافے سے 3لاکھ 56ہزار 800روپے کی سطح پر آگئی۔
اسی طرح ملک میں فی 10 گرام سونے کی قیمت بھی 5ہزار 658روپے بڑھ کر 3لاکھ 5ہزار 898روپے کی سطح پر آگئی۔
دریں اثنا فی تولہ چاندی کی قیمت 52روپے کے اضافے سے 3ہزار 834روپے اور فی 10 گرام چاندی کی قیمت بھی 45روپے کے اضافے سے 3ہزار 287روپے کی سطح پر آگئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سونے کی قیمت کی سطح پر
پڑھیں:
مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔
فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔
حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔
ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘
ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔
یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔