بلاول بھٹو ملک کے اگلے نوجوان وزیر اعظم ہوں گے،گورنر پنجاب
اشاعت کی تاریخ: 13th, July 2025 GMT
بلاول بھٹو ملک کے اگلے نوجوان وزیر اعظم ہوں گے،گورنر پنجاب WhatsAppFacebookTwitter 0 13 July, 2025 سب نیوز
رحیم یار خان (آئی پی ایس)
گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے رحیم یار خان کا دورہ کیا جہاں پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنوں کی جانب سے ان کا پرتپاک اور شاندار استقبال کیا گیا۔ گورنر پنجاب کے استقبال کے موقع پر جیالوں کا جوش و خروش دیدنی تھا اور پارٹی ترانوں کی گونج سے فضا گونج اٹھی۔
گورنر پنجاب نے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ عام انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب سے کلین سویپ کرے گی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ گورنر ہاؤس کے دروازے پارٹی کارکنوں کے لیے ہر وقت کھلے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری ملک کے اگلے نوجوان وزیر اعظم ہوں گے، جبکہ صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے ملک و قوم کی خاطر 14 سال جیل کاٹی اور مفاہمت کی سیاست کو فروغ دیا۔
گورنر سلیم حیدر خان نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے کارکن اپنے آپ کو کبھی تنہا نہ سمجھیں، اگر کسی کو کوئی پریشانی ہوئی تو میں ایک فون کال کی دُوری پر ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملکی معیشت کی بہتری کے لیے کوششیں جاری ہیں اور بھارت کو شکست دے کر پاکستان کا نام دنیا میں روشن کیا۔
انہوں نے زور دیا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے مل کر ملک کو ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کیا ہے۔ پیپلز پارٹی نے جمہوریت کے لیے بے شمار قربانیاں دیں، جبکہ صدر آصف علی زرداری کو مفاہمت کا بادشاہ قرار دیا۔
بلوچستان سے متعلق بات کرتے ہوئے گورنر پنجاب نے کہا کہ بلوچستان میں امن قائم کرنے کے لیے عوام کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا، یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ بلوچستان مسئلہ حل کرے۔ انہوں نے بھارت پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہ بلوچستان میں دہشت گردی پھیلانے میں ملوث ہے۔
کچے کے علاقے سے متعلق گورنر نے کہا کہ ان علاقوں میں سڑکوں سمیت دیگر ترقیاتی منصوبوں کی اشد ضرورت ہے، پیپلز پارٹی نگران وزیر اعلیٰ محسن نقوی کے ویژن سے متفق ہے، اور کچے کے ڈاکوؤں کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرفلسطینیوں پر مظالم بند کیوں نہیں ہو رہے؟ امریکی اخبار حقائق سامنے لے آیا فلسطینیوں پر مظالم بند کیوں نہیں ہو رہے؟ امریکی اخبار حقائق سامنے لے آیا بلوچستان میں 6 ماہ کے دوران دہشتگردی کے 501 واقعات میں257 افراد جاں بحق ہوئے، محکمہ داخلہ کی رپورٹ بجلی کے پیک آورز کے دورانیے میں اضافے سے متعلق پاور ڈویژن کا اہم بیان سامنے آگیا ایک دن کشمیر میں آزادی کی اذان ضرور گونجے گی، مشعال ملک اسرائیلی حملے میں ایرانی صدر بھی زخمی ہوئے، ایرانی امریکی صدر کی ثالثی کی تجویز نے امن کا دروازہ کھولا، بھارت کا انکار انکی جنگی ذہنیت کا ثبوت ہے: وزیر داخلہCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی گورنر پنجاب نے کہا کہ انہوں نے کے لیے
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔