عمر ایوب کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری
اشاعت کی تاریخ: 24th, July 2025 GMT
انسداد دہشتگردی عدالت نے اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیے ہیں۔
جمعرات کے روز اسلام آباد کی انسداد دہشتگردی عدالت میں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب کے خلاف 4 اکتوبر 2024 کو ہونے والے احتجاج سے متعلق کیس کی سماعت جج طاہر عباس سپرا نے کی، عمر ایوب عدالت میں پیش نہیں ہوئے جس پر عدالت نے ان کے قابل ضمانت وارنٹ جاری کردیے اور ان کی تمام ضمانتیں منسوخ کردیں۔
اسی کیس میں پی ٹی آئی کے سینیٹر اعظم سواتی کو ذاتی حاضری سے استثنیٰ دے دیا گیا ہے، جس کی درخواست انہوں نے گزشتہ روز عدالت میں جمع کروائی تھی، عدالت نے مقدمے کی مزید سماعت 30 جولائی تک ملتوی کردی ہے۔
یاد رہے کہ عدالت کی یہ کارروائی 22 جولائی 2025 ان فیصلوں کے بعد سامنے آئی ہے جن میں انسداد دہشتگردی کی عدالتوں نے 9 مئی 2023 کے فسادات میں ملوث متعدد پی ٹی آئی رہنماؤں کو 10،10 دس سال قید کی سزائیں سنائی ہیں۔ ان میں ڈاکٹر یاسمین راشد، میاں محمود الرشید، سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ، سینیٹر اعجاز چوہدری اور افضل عظیم پہاٹ شامل ہیں۔
تاہم اسی کیس میں سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، حمزہ عظیم پہاٹ، رانا تنویر اور اعزاز رفیق کو بری کردیا گیا ہے۔
اسی دن سرگودھا کی انسداد دہشت گردی عدالت نے پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف احمد خان بچر، رکن قومی اسمبلی محمد احمد چٹھہ اور دیگر پی ٹی آئی کارکنوں کو 9 مئی کے ہنگاموں میں توڑ پھوڑ کے الزام میں 10،10 سال قید کی سزا بھی سنائی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
لاہور: ماں دوسرے شوہر کے ساتھ چلی گئی، عدالت کے باہر 8 بیٹیاں روتی رہیں، ویڈیو وائرل
لاہور ہائیکورٹ نے ایک کیس کی سماعت کے دوران خاتون کو اپنے دوسرے شوہر کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی جس پر انکی 8 بیٹیاں عدالت کے باہر دھاڑیں مار کر روتی رہیں۔
لاہور ہائیکورٹ میں درخواست گزار غلام حسین نے حبسِ بے جا کی درخواست دائر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ان کی اہلیہ شبنم بی بی کو انکے سابق شوہر اور اہلِ خانہ نے غیر قانونی طور پر اپنی تحویل میں رکھا ہوا ہے لہٰذا عدالت انہیں بازیاب کرا کے ان کے ساتھ جانے کی اجازت دے۔
سماعت کے دوران شبنم بی بی نے عدالت کے روبرو بیان دیا کہ وہ غلام حسین سے نکاح کرچکی ہیں اور ان کے ساتھ ہی رہنا چاہتی ہیں۔ عدالت نے خاتون کے بیان کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں اپنے شوہر کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی۔
عدالتی فیصلے کے بعد عدالت کے باہر جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے، جہاں شبنم بی بی کی پہلی شادی سے ہونے والی بیٹیاں زار و قطار روتی رہیں۔
بیٹیوں میں سے ایک نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ان کی والدہ نے عدالت میں انہیں پہچاننے سے بھی انکار کردیا اور اپنے نئے شوہر کے حق میں بیان دیا۔ عدالتی حکم کے بعد شبنم بی بی اپنے شوہر غلام حسین کے ہمراہ روانہ ہوگئیں۔