قومی و صوبائی اسمبلی کے 3 حلقوں میں ضمنی انتخابات کا شیڈول جاری، پولنگ 18 ستمبر
اشاعت کی تاریخ: 29th, July 2025 GMT
الیکشن کمیشن کے ترجمان کے مطابق قومی اسمبلی کے حلقے این اے 66 وزیرآباد، این اے 129 لاہور اور پنجاب اسمبلی کے حلقے پی پی 87 میانوالی میں ضمنی انتخابات 18 ستمبر 2025ء کو منعقد ہوں گے۔ اسلام ٹائمز۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے قومی اور صوبائی اسمبلی کے 3 حلقوں میں ضمنی انتخابات کے لیے شیڈول جاری کردیا ہے، پولنگ 18 ستمبر کو ہوگی۔ الیکشن کمیشن کے ترجمان کے مطابق قومی اسمبلی کے حلقے این اے 66 وزیرآباد، این اے 129 لاہور اور پنجاب اسمبلی کے حلقے پی پی 87 میانوالی میں ضمنی انتخابات 18 ستمبر 2025ء کو منعقد ہوں گے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ این اے 66 وزیر آباد کی نشست احمد چٹھہ جبکہ پی پی 87 میانوالی کی نشست پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر احمد خان بھچر کے نااہل قرار دیے جانے کے باعث خالی ہوئی، این اے 129 لاہور کی نشست رکن قومی اسمبلی میاں اظہر کے انتقال کے بعد خالی ہوئی تھی۔
جاری کردہ شیڈول کے تحت امیدوار 6 اگست تک کاغذات نامزدگی جمع کراسکیں گے، جبکہ امیدواروں کے ناموں کی عبوری فہرست 7 اگست کو جاری کی جائے گی، 26 اگست کو امیدواروں کو انتخابی نشانات الاٹ کیے جائیں گے۔
دوسری جانب الیکشن کمیشن نے ہدایت جاری کی ہے کہ امیدوار مقررہ تاریخوں کے مطابق اپنے کاغذات نامزدگی جمع کرائیں تاکہ انتخابی عمل بروقت اور شفاف طریقے سے مکمل کیا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: میں ضمنی انتخابات اسمبلی کے حلقے الیکشن کمیشن
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔