امریکا میں خسرہ  کے کیسز میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے جو گزشتہ 33 سالوں کا بلند ترین سطح ہے۔

رواں سال کے آغاز سے اب تک ملک بھر میں تقریباً 1,300 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔ سب سے زیادہ متاثرہ ریاست ٹیکساس ہے جہاں کل رپورٹ شدہ کیسز کا تقریباً 3 چوتھائی حصہ یعنی 75 فیصد سے زیادہ کیسز سامنے آئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: پھیپھڑوں کی جان لیوا بیماری کے خلاف ویکسین منظور

واضح رہے کہ امریکا میں سن 2000 ہزار میں اس مہلک بیماری کے خاتمے کا اعلان کردیا گیا تھا۔ کسی بھی بیماری کے ‘خاتمے’ کا مطلب یہ ہے کہ بیماری مسلسل 12 مہینوں تک مقامی طور پر نہیں پھیلی ہو۔ اگرچہ 2000 کے بعد بھی وقتاً فوقتاً چھوٹے پیمانے پر خسرہ کے کیسز سامنے آتے رہے ہیں لیکن حالیہ تعداد ماضی کی بڑی وباؤں سے کہیں کم ہے۔ مثال کے طور پر 1990 میں 27,000 جبکہ 1964 میں 450,000 خسرہ کے کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔

خسرہ کی ویکسین 1963 میں متعارف کروائی گئی جس کے بعد اس بیماری کے خلاف جنگ میں اہم پیش رفت ہوئی اور ہر سال ہزاروں اموات کو روکا گیا۔

یہ بھی پڑھیے: گلگت: کتوں کے کاٹنے سے اموات میں اضافہ، ویکسین نایاب

تاہم امریکا میں ویکسین سے متعلق ماہرین کی پریشانی میں اضافہ ہوا ہے۔ پبلک ہیلتھ کے ماہرین اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ ویکسین کی شرح میں کمی سے خسرہ جیسے مہلک مگر قابلِ روک تھام امراض ایک بار پھر سر اٹھا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ویکسین لگوانے کی شرح میں کمی سے ملک بھر میں بعض علاقوں میں ایسے ‘خطرناک خلا’ پیدا ہو گئے ہیں جہاں لوگوں میں اجتماعی مدافعت موجود نہیں اور بیماری کو پھیلنے سے روکنا مشکل ہو سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا بیماری پبلک ہیلتھ خسرہ وبا.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکا پبلک ہیلتھ امریکا میں بیماری کے

پڑھیں:

دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا

کراچی : دیو ہیکل بحری جہاز ‘ایم ایس سی ڈیلیٹا ‘ کراچی پورٹ پر لنگر انداز ہوگیا ، جو بندرگاہ کے عالمی معیار کے انفراسٹرکچر اور آپریشنل صلاحیت کا واضح ثبوت ہے۔تفصیلات کے مطابق دنیا کا دیو ہیکل کنٹینر بحری جہاز "ایم ایس سی ڈینلیٹا” کامیابی کے ساتھ کراچی پورٹ پہنچ گیا ہے اور کے پی ٹی کے مخصوص ٹرمینل پر لنگر انداز ہوگیا۔کراچی پورٹ ٹرسٹ نے بتایا کہ یہ بحری جہاز اپنی نوعیت اور حجم کے اعتبار سے انتہائی وسیع ہے، جو بندرگاہ کے عالمی معیار کے انفراسٹرکچر اور آپریشنل صلاحیت کا واضح ثبوت ہے۔کے پی ٹی کا کہنا تھا کہ 400 میٹر طویل اور 67 میٹر چوڑا یہ بحری جہاز 255,288 ڈیڈ ویٹ ٹن گنجائش رکھتا ہے، جو اسے دنیا کے بڑے تجارتی جہازوں میں شامل کرتا ہے۔ترجمان نے کہا کہ اتنے بڑے جہاز کی آمد اس بات کا مظہر ہے کہ کراچی پورٹ جدید سہولیات اور بڑے بحری جہازوں کو سنبھالنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔ادارے کے مطابق ایسے بڑے جہازوں کی آمد سے بندرگاہ کی استعداد میں مزید اضافہ ہوگا، عالمی شپنگ کمپنیوں کا اعتماد مضبوط ہوگا اور پاکستان کی تجارتی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا۔

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق