9 مئی مقدمہ: عمر ایوب، زرتاج گل کی ضمانت میں توسیع
اشاعت کی تاریخ: 2nd, August 2025 GMT
گوجرانوالہ کی عدالت نے 9 مئی سے متعلق کیس میں پی ٹی آئی رہنماؤں عمر ایوب اور زرتاج گل کی ضمانت میں توسیع کردی۔
گوجرانوالہ کے اے ٹی سی جج کا تبادلہ ہونے کے باعث سماعت سیشن عدالت میں ہوئی۔
دورانِ سماعت عمر ایوب، زرتاج گل اور احمد چٹھہ عدالت میں پیش نہیں ہوئے، عدالت نے احمد چٹھہ کی درخواستِ ضمانت خارج کر دی، درخواستِ ضمانت عدم پیروی کے باعث خارج کی گئی۔
عمر ایوب اور زرتاج گل کے وکیل کی طرف سے درخواست پیش کی گئی۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا کہ عمر ایوب اور زرتاج گل بیماری کےباعث عدالت میں پیش نہیں ہو سکتے۔
عدالت نے عمر ایوب اور زرتاج گل کی درخواست منظور کرتے ہوئے ان کی ضمانت میں 15 اگست تک توسیع کر دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: عمر ایوب اور زرتاج گل
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کو نئی بھرتیوں سے روک دیا
اسلام آباد:ہائیکورٹ نے جاری اشتہار کے مطابق اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) میں نئی بھرتیوں پر عملدرآمد سے روک دیا۔
عدالت نے حکم دیا کہ اسامیوں کی بھرتی کے لیے جاری کیے گئے اشتہار پر مرکزی درخواست کے حتمی فیصلے تک عملدرآمد معطل رہے گا۔ جسٹس محمد اعظم خان نے یہ احکامات جاری کرتے ہوئے متفرق درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات بھی دور کر دیے۔
حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ عدالت درخواست کے میرٹ پر دیے بغیر متفرق درخواست کو منظور کررہی ہے۔ عدالت نے اشتہار پر عملدرآمد روکنے کی متفرق درخواست منظور کرتے ہوئے اسے نمٹا دیا، جبکہ مرکزی کیس کی سماعت کے لیے 22 اگست کی تاریخ مقرر کر دی گئی۔
واضح رہے کہ اے این ایف کے کانسٹیبل محمد شفیق خان نے اپنے وکیل محمد علی رضا کے ذریعے اسامیوں کے اشتہار کو عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے۔ درخواست میں وزارتِ داخلہ، وزارتِ قانون اور ڈائریکٹر جنرل اے این ایف کو فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ گزشتہ 10 سال سے اے این ایف میں ایک ہی عہدے پر خدمات انجام دے رہا ہے، لیکن اسے کوئی ترقی نہیں دی گئی۔ اس نے بتایا کہ محکمہ کے 665 کانسٹیبلز کی سینیارٹی فہرست میں اس کا نمبر 232 ہے، اس کے باوجود محکمانہ ترقی کا حق نظر انداز کیا گیا۔
درخواست میں کہا گیا کہ ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی کا اجلاس بلائے بغیر نئی براہِ راست بھرتیوں کا اشتہار جاری کرنا غیر قانونی ہے۔ مزید مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اے این ایف کے سروس رولز کے تحت پہلے سے موجود ملازمین کی ترقی کا حق ختم کرکے براہِ راست بھرتیوں کا اشتہار دیا گیا ہے۔
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ دیگر اداروں سے ڈیپوٹیشن پر آنے والے افسران کی غیر قانونی انٹری روک کر سویلین ملازمین کا سروس اسٹرکچر بحال کیا جائے۔ عدالت اے این ایف کا جاری کردہ حالیہ بھرتیوں کا اشتہار غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کرے اور تمام خالی اسامیوں پر محکمانہ ترقیوں کے لیے ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی فوری تشکیل دینے کا حکم جاری کرے۔