عمران 5 مقدموں میں سزایافتہ ہائیکورٹ نے تاحال توثیق نہیں کی
اشاعت کی تاریخ: 5th, August 2025 GMT
اسلام آباد:
سابق وزیراعظم عمران خان کو 5 مقدمات میں سزا سنائی جا چکی، مگر ہائیکورٹ نے ان کی کسی سزا کی تاحال توثیق نہیں کی، ٹرائل کے دوران قانونی تقاضوں کی عدم پیروی کے باعث شفافیت پر سنگین سوالات اٹھنے لگے۔
عمران خان کی قانونی ٹیم مسلسل الزام لگا رہی ہے کہ ان کے خلاف مقدمات تقاضے پورے نہیں کئے گئے جن کی آرٹیکل 10 اے ضمانت دیتا ہے۔ سینئر وکلاء کے مطابق اگرچہ پی ٹی آئی قیادت گزشتہ دو سال کے دوران عمران خان کے رہائی کی موثر حکمت عملی بنانے میں ناکام ہے.
ٹرائل کے دوران قانونی تقاضوں کی عدم پیروی عوام میں سنگین شک وشہبات پیدا کر رہی جس کا سیاسی فائدہ ان کی پارٹی کو ہورہا ہے۔ جب تک عمران خان کو سیاسی انتقام کا شکار خیال کیا جائیگا، مخالفین کیلئے انہیں شفاف انتخابات میں ہرانا ممکن نہیں۔
انہوں نے کہاکہ ن لیگ اور پی پی پی اگر عمران خان کو سیاسی میدان میں ہرانا چاہتے ہیں تو انہیں سیاسی انتقام کے کارڈ کا توڑ کرنا ہو گا۔ پہلے توشہ خانہ کیس میں ٹرائل کورٹ نے عمران خان کو تین سال کی سزا سنائی.
وکلاء کو یقین ہے کہ اس فیصلے میں سنگین خامیاں ہیں، جن میں سرفہرست جلد بازی میں فیصلہ اور عمران خان کے گواہوں کے بیانات ریکارڈ نہ کرنا ہے.
حال ہی میں جسٹس منصور علی شاہ نے بھٹو کیس کے صدارتی ریفرنس میں ایک اضافی نوٹ جاری کیا جس میں انہوں نے کہا کہ دبائو کے باوجود ججوں کو اپنے حلف کی پاسداری میں جرات کا مظاہرہ کرنا چاہیے، صرف عدلیہ ہی جمہوریت اور عوام کے حقوق کی محافظ ہو سکتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: عمران خان کو
پڑھیں:
کیا آپ بھی رات دیر تک جاگتے ہیں؟ ماہرین نے سنگین خطرات سے خبردار کردیا
رات گئے تک جاگنے کی عادت آپ کی دماغی صحت کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
جدید طرزِ زندگی میں نیند کے اوقات میں بے ترتیبی عام ہوتی جا رہی ہے خاص طور پر نوجوانوں میں رات گئے تک جاگنا ایک معمول بنتا جا رہا ہے تاہم ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ یہ عادت دماغی صحت پر منفی اثرات ڈال سکتی ہے۔
امریکا میں ہونے والی مختلف طبی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ جو افراد رات دیر تک جاگتے اور صبح دیر سے اٹھتے ہیں، ان میں ذہنی مسائل جیسے ڈپریشن، انزائٹی اور تنہائی کے احساس کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ ایک تحقیق میں 400 سے زائد افراد کا جائزہ لیا گیا جس میں ان کی نیند کی عادات اور ذہنی کیفیت کا تجزیہ کیا گیا۔
نتائج کے مطابق رات گئے تک جاگنے والے افراد نہ صرف زیادہ بے چینی کا شکار ہوتے ہیں بلکہ وہ سماجی طور پر بھی کم متحرک ہوتے ہیں جس کے باعث تنہائی کا احساس بڑھ جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ رات کے اوقات میں منفی خیالات زیادہ حاوی ہوتے ہیں جو ذہنی دباؤ میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔
اسی طرح دیگر تحقیقات سے یہ بھی سامنے آیا کہ دیر سے سونے والے افراد میں ڈپریشن کا خطرہ 20 سے 40 فیصد تک زیادہ ہو سکتا ہے۔ اس کی ایک وجہ ناقص نیند کا معیار، غیر صحت بخش خوراک اور اسمارٹ فون یا اسکرین کا زیادہ استعمال بھی ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق انسانی جسم کا قدرتی نظام (سرکیڈین ردھم) دن میں سرگرمی اور رات میں آرام کے لیے بنایا گیا ہے۔ اس نظام میں خلل ذہنی اور جسمانی صحت دونوں کو متاثر کرتا ہے۔
تحقیق سے یہ بھی واضح ہوا ہے کہ اگرچہ نیند کا دورانیہ مکمل ہو، لیکن سونے کا غلط وقت بھی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس لیے بہتر دماغی صحت کے لیے جلد سونے اور جلد جاگنے کی عادت اپنانا ضروری ہے۔
ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ رات کے وقت اسکرین کا استعمال کم کیا جائے، سونے کا باقاعدہ وقت مقرر کیا جائے اور دن کے اوقات میں سماجی سرگرمیوں میں حصہ لیا جائے تاکہ ذہنی صحت بہتر رہ سکے۔