آج زمین معمول سے زیادہ تیز گھومے گی! دُنیا میں تشویش کی لہر
اشاعت کی تاریخ: 5th, August 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) زمین کی گردش حالیہ برسوں میں اچانک تیز ہو گئی ہے، اور اس کی وجہ ابھی تک سائنسی طور پر مکمل طور پر سمجھ میں نہیں آئی۔ آج یعنی اگست 5 کو زمین کی گردش میں مزید تیز رفتاری کا امکان ہے جس سے دن میں 1.25 سے 1.51 ملی سیکنڈ کی کمی آ سکتی ہے۔
یہ رفتار کی تیزی دن کے معمولات پر کوئی اثر نہیں ڈالے گی، مگر سائنس دان اس تبدیلی کو نظر انداز نہیں کر رہے۔ ٹائم اینڈ ڈیٹ کے مطابق، یہ پیش گوئی انٹرنیشنل ارتھ روٹیشن اینڈ ریفرینس سسٹمز سروس اور یو ایس نیول آبزرویٹری کے تعاون سے کی گئی ہے۔ ابتدائی پیش گوئی 1.
اگر یہ پیش گوئی درست ثابت ہوئی تو یہ دن زمین کی تاریخ کا تیسرا سب سے مختصر دن بن جائے گا۔ اس سے پہلے 30 جون 2022 اور 5 جولائی 2024 میں زمین کی گردش تیز ہوئی تھی، جن میں سے 5 جولائی 2024 کا دن سب سے کم وقت میں مکمل ہوا تھا، یعنی 1.66 ملی سیکنڈ تیز۔
زمین کی گردش میں تیزی کی وجہ؟
سائنسدانوں کا خیال ہے کہ یہ تیزی چاند کے کرہ ارض کے قریب ہونے کی وجہ سے ہو رہی ہے۔ جب چاند زمین کے شمالی یا جنوبی حصے میں زیادہ دور ہوتا ہے، تو اس کا اثر زمین کی گردش پر پڑتا ہے۔ آج یعنی اگست 5 کو چاند زمین کے جنوب کی طرف زیادہ ہوگا، جس کی وجہ سے گردش میں تیزی آ سکتی ہے۔
اگر آج کی پیش گوئی بھی درست ثابت ہوتی ہے، اور زمین کی گردش 1.25 ملی سیکنڈ تیز ہو جاتی ہے، تو یہ زمین کی تاریخ کا تیسرا سب سے مختصر دن بن جائے گا۔ یعنی،
5 جولائی 2024 (سب سے تیز: 1.66 ملی سیکنڈ)
30 جون 2022 (1.59 ملی سیکنڈ)
5 اگست 2025 (پیش گوئی کے مطابق 1.25 ملی سیکنڈ)
سائنسدانوں کے لیے سوال
یہ بات سب کو پریشان کر رہی ہے کہ زمین کی گردش تیز ہو رہی ہے، کیونکہ زمین کی گردش کا سست ہونا ایک قدیم رجحان ہے۔ تقریباً 245 ملین سال پہلے، جب ڈایناسور زمین پر موجود تھے، دن 1.5 گھنٹے کم تھے، اور اس کے بعد سے زمین کی گردش سست ہو رہی ہے۔ 1973 کے بعد سے ریکارڈ کے مطابق زمین کی گردش میں آہستہ آہستہ سست روی دیکھی گئی ہے۔
اس تیز رفتار گردش کا کسی بھی انسان کی روزمرہ زندگی پر تو کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ یہ صرف ایک سائنسی تجزیہ ہے جو سائنسدانوں کے لیے مزید تحقیقات کی دعوت دے رہا ہے۔
Post Views: 4
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: زمین کی گردش ملی سیکنڈ پیش گوئی تیز ہو گئی ہے کی وجہ رہی ہے
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔