اسرائیلی فٹبالر کی مبینہ نفرت انگیز پوسٹس پر احتجاج، جرمن کلب نے معاہدہ ختم کردیا
اشاعت کی تاریخ: 6th, August 2025 GMT
جرمنی کے معروف فٹبال کلب فورٹونا ڈسلڈورف نے اسرائیلی اسٹرائیکر شون وائز مین کے ساتھ معاہدہ منسوخ کردیا ہے، یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب کھلاڑی کی سوشل میڈیا پر غزہ جنگ سے متعلق متنازع پوسٹس منظرعام پر آئیں، جن پر شائقین نے سخت ردعمل ظاہر کیا۔
کلب نے منگل کے روز ایک مختصر بیان میں اس فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ شون وائز مین کے بارے میں مکمل جانچ کرنے کے بعد بالآخر اسے سائن نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
اگرچہ کلب نے فیصلے کی تفصیل بیان نہیں کی، تاہم جرمن اخبار بلڈ کے مطابق، کلب کو شائقین کی جانب سے اسٹرائیکر کے آن لائن بیانات پر شدید احتجاج کا سامنا کرنا پڑا۔ ان بیانات کو بعض حلقوں نے ’توہین آمیز اور امتیازی‘ قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں:
شون وائز مین اسپین کے کلب گریناڈا سے فورٹونا ڈسلڈورف منتقل ہونے والے تھے اور وہ پہلے ہی جرمنی پہنچ کر میڈیکل ٹیسٹ بھی مکمل کر چکے تھے۔
پیر کے روز جب ان کی ممکنہ شمولیت کی خبریں سامنے آئیں تو سوشل میڈیا پر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔ ناقدین نے الزام لگایا کہ وائز مین کے بیانات فورٹونا کے اصولوں اور اس کی نمائندہ اقدار کے منافی ہیں۔
پہلے پہل کلب نے کھلاڑی کا دفاع کرنے کی کوشش کی، فورٹونا کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں لکھا گیا کہ یہاں کیا ہو رہا ہے، مجھے بار بار پیغامات موصول ہو رہے ہیں، کسی کو اس کے ویکیپیڈیا صفحے کی بنیاد پر جانچنا، یہ ہمارے اقدار کی عکاسی نہیں کرتا۔
مزید پڑھیں:
تاہم بعد ازاں فورٹونا ڈسلڈورف نے یہ پوسٹ ہٹاتے ہوئے شون وائز مین کے ساتھ 5 لاکھ یورو مالیت کا معاہدہ منسوخ کر دیا۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق، وائزمین نے 7 اکتوبر کے حملوں کے بعد سوشل میڈیا پرکئی اشتعال انگیز بیانات دیے تھے، جن میں مبینہ طورپرغزہ کو نقشے سے مٹا دینے اوراس پر 200 ٹن بم گرانے کی باتیں شامل تھیں، ایک اور پوسٹ کو لائک کرتے ہوئے ان کی جانب سے مبینہ طور پر کہا گیا تھا کہ غزہ میں کوئی معصوم نہیں، انہیں خبردار کرنے کی ضرورت نہیں۔
2023 میں اسپین میں ان کے خلاف نفرت انگیز مواد کے الزام میں قانونی شکایت بھی دائر کی گئی تھی، تاہم ان کے ایجنٹ نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ بیانات ان کے سوشل میڈیا مینیجر کی جانب سے دیے گئے تھے، جنہیں بعد ازاں حذف کر دیا گیا۔
مزید پڑھیں:
یہ پہلا موقع نہیں کہ غزہ جنگ کے اثرات جرمن فٹبال لیگ یعنی بندس لیگا پر مرتب ہوئے ہوں، اس سے قبل ڈچ کھلاڑی انورالغازی کو ان کے بیانات پر مینز کلب سے برطرف کیا گیا تھا، تاہم وہ عدالت میں ناجائز برطرفی کا مقدمہ جیت چکے ہیں، جو اب اپیل میں ہے۔
اسی طرح مانچسٹر یونائیٹڈ کے کھلاڑی اور سابق بائرن میونخ کے دفاعی اسٹار نصیرمزراوی کو بھی فلسطینیوں کے حق میں بیانات پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا، جس کے بعد انہوں نے معذرت نامہ جاری کیا تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بائرن میونخ سوشل میڈیا شون وائز مین غزہ فورٹونا ڈسلڈورف مانچسٹر یونائیٹڈ معاہدہ منسوخ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بائرن میونخ سوشل میڈیا شون وائز مین مانچسٹر یونائیٹڈ معاہدہ شون وائز مین وائز مین کے سوشل میڈیا کلب نے
پڑھیں:
ایچ ای سی نے ڈیٹا لیک سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے وا لی خبروں کی تردید کردی
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 03 جون2026ء) ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی)نے اپنے ڈیٹا بیس میں مبینہ نقب زنی اور ریکارڈ لیک ہونے سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کو بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کر دیا ۔ ایچ ای سی نے اپنے بیان میں کہا کہ کمیشن نے ان رپورٹس کا نوٹس لیتے ہوئے فوری تحقیقات کیں جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایچ ای سی کے ڈیٹا بیس سے معلومات لیک ہو گئی ہیں۔ بیان کے مطابق ایچ ای سی کے سائبر سکیورٹی آپریشن سینٹر کی جانب سے کی جانے والی تحقیقات سے یہ بات واضح ہوئی ہے کہ آن لائن گردش کرنے والے نمونہ ریکارڈز کا ایچ ای سی کے ڈگری اٹیسٹیشن سسٹم سے کوئی تعلق نہیں ۔ ایچ ای سی کے مطابق اس کے مرکزی نظام اور ریکارڈ کی سکیورٹی برقرار ہے اور کسی قسم کے ڈیٹا بریچ یا حساس معلومات کے افشا ہونے کے شواہد نہیں ملے۔(جاری ہے)
بیان میں کہا گیا ہے کہ عوام اور طلبہ بلا تصدیق معلومات پر یقین نہ کریں اور صرف مستند ذرائع سے جاری کردہ معلومات کو ہی اہمیت دیں۔ ایچ ای سی نے شہریوں، طلبہ اور متعلقہ حلقوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر مصدقہ خبروں اور افواہوں کو آگے پھیلانے سے گریز کریں کیونکہ اس طرح کی غلط معلومات عوام میں بے چینی پیدا کرنے کا باعث بن سکتی ہیں۔ کمیشن نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ تعلیمی ریکارڈ، ڈگری اٹیسٹیشن اور دیگر ڈیجیٹل خدمات کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے جدید سائبر سکیورٹی اقدامات نافذ کیے جا رہے ہیں تاکہ صارفین کا اعتماد برقرار رکھا جا سکے۔