پاکستان اور عمان کے درمیان برادرانہ تعلقات مشترکہ مذہب، ثقافت اور اقدار پر مبنی ہیں،صدرمملکت
اشاعت کی تاریخ: 6th, August 2025 GMT
صدرمملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان اور عمان کے درمیان برادرانہ تعلقات مشترکہ مذہب، ثقافت اور اقدار پر مبنی ہیں،باہمی اقتصادی و تجارتی تعلقات کو مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے،
ایوان صدرکے پریس ونگ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ان خیالات کا اظہار صدرمملکت آصف علی زرداری نے عمان کے سفیر فہد سلیمان خلف الخاروصی سے گفتگوکرتے ہوئے کیا جنہوں نے صدرمملکت سے ایوان صدر میں ملاقات کی۔
ملاقات میں دونوں ممالک کے تاریخی اور برادرانہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کے عزم کے اعادہ کے ساتھ ساتھ تجارت، سرمایہ کاری اور توانائی کے شعبوں میں باہمی تعاون کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیا ل کیا گیا۔
اس موقع پر صدرمملکت نے کہا کہ پاکستان اور عمان کے درمیان برادرانہ تعلقات مشترکہ مذہب، ثقافت اور اقدار پر مبنی ہیں ،دوطرفہ اقتصادی و تجارتی تعلقات کو مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے ۔
انہوں نے کہا کہ آئی ٹی، تعمیرات، صحت، فوڈ سیکیورٹی اور توانائی کے شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھانے کے وسیع امکانات موجود ہیں ،حکومتی اور نجی شعبے کے قریبی روابط سے معاشی اور تجارتی تعاون میں اضافہ ہوگا۔
صدرِ مملکت نے پاکستان کی سلامتی کونسل کی غیر مستقل رکنیت کے لیے عمان کی حمایت پر اظہار تشکر کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: برادرانہ تعلقات عمان کے
پڑھیں:
سمندری تجارت میں بہتری، کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی
خلیج میں جاری کشیدگی اور بحری راستوں میں رکاوٹوں کے باعث پاکستان کی سمندری تجارت میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آ رہی ہے، جس سے کراچی(Karachi) اور گوادر(Gwadar) بندرگاہوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
عرب نیوز کے مطابق ہچیسن پورٹس پاکستان کا کہنا ہے کہ نیا کارگو کئی بحری جہازوں کے ذریعے پاکستان پہنچے گا، دو جہاز پہلے ہی بندرگاہ پر آ چکے ہیں، جبکہ تیسرا جہاز جون کے پہلے ہفتے میں پہنچنے کی امید ہے۔
کراچی میں ہچیسن پورٹس ٹرمینل 4 ہزار نئے ٹرانس شپمنٹ کارگو سنبھالے گا، جس کے بعد مارچ 2026 تک مجموعی تعداد 14,300 سے بڑھ جائے گی، خلیجی خطے میں رکاوٹوں کے باعث بین الاقوامی شپنگ کمپنیاں دوسرے راستے کے طور پر پاکستان کی بندرگاہوں کو اہمیت دے رہی ہیں۔
میری ٹائم حکام کے مطابق خلیج کے بحران کے باعث نہ صرف کراچی بلکہ گوادر پورٹ کے استعمال میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، جہاں سرگرمیاں 20 فیصد سے بڑھ کر 30 فیصد تک پہنچ گئی ہیں۔
مزیدپڑھیں:دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک کیلیے وبال جان بن گئے
حکام کا کہنا ہے کہ گوادر پورٹ کو پرکشش بنانے کے لیے برتھنگ فیس میں 25 فیصد، بین الاقوامی ٹرانس شپمنٹ کارگو چارجز میں 40 فیصد اور ٹرانزٹ کارگو چارجز میں 31 فیصد کمی کی گئی ہے، تاہم سی پیک 2.0، علاقائی تجارتی راہداریوں اور نئی سرمایہ کاری سے گوادر پورٹ کی علاقائی اہمیت میں اضافے کی امید ہے۔
کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں پاکستان کے علاقائی لاجسٹکس اور ٹرانس شپمنٹ کا اہم مقام بننے کے لیے ایک اچھا اشارہ ہیں، پاکستان کا منفرد جغرافیائی محلِ وقوع کراچی، پورٹ قاسم اور گوادر کو خطے کے ابھرتے ہوئے تجارتی اور لاجسٹکس مقامات میں تبدیل کر رہا ہے۔