اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔09 اگست ۔2025 )پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) نے کالجوں کے داخلہ ٹیسٹ کی فیس میں 80 فیصد اضافے کے دعوﺅں کی تردید کرتے ہوئے اعلان کیا کہ میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالجز ایڈمیشن ٹیسٹ (ایم ڈی کیٹ داخلہ ٹیسٹ) رواں سال 5 اکتوبر کو منعقد کیا جائے گا پی ایم ڈی سی ملک بھر میں میڈیکل اور ڈینٹل تعلیم کے معیار کو منظم کرنے والا قومی قانونی ادارہ ہے پریس ریلیز میں پی ایم ڈی سی نے اعلان کیا کہ میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالجز ایڈمیشن ٹیسٹ (ایم ڈی کیٹ) اتوار 5 اکتوبر کو منعقد ہوگا اور فیس سے متعلق خدشات کا جواب دیا.

(جاری ہے)

بیان میں کہا گیا کہ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کے علم میں آیا ہے کہ ایم ڈی کیٹ امتحانی فیس کے بارے میں ایک غلط فہمی پھیلائی گئی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ یہ فیس 80 فیصد بڑھا دی گئی ہے بیان کے مطابق پی ایم ڈی سی وضاحت کرنا چاہتی ہے کہ ایم ڈی کیٹ کی فیس میں گزشتہ چند سال میں معمولی اور بتدریج اضافہ ہوا ہے، ادارے نے بتایا کہ 2024 میں یہ فیس 8 ہزار روپے تھی اور 2025 کے لیے 9 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے یعنی ایک ہزار روپے کا اضافہ جو صرف 12.5 فیصد بنتا ہے.

بیان میں کہا گیا کہ امتحان کا انعقاد پی ایم ڈی سی کے بجائے وفاقی اور صوبائی حکام کی جانب سے نامزد کردہ جامعات کریں گی تاہم، بطور ریگولیٹر، پی ایم ڈی سی نے تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد ایم ڈی کیٹ کے لیے ایک یکساں نصاب تیار کیا ہے بیان میں کہا گیا کہ کونسل نے ایک سوالاتی بینک تیار کرنے میں نمایاں سرمایہ کاری کی ہے جو صوبوں کے متفقہ نصاب پر مبنی ہے.

بیان کے مطابق فیس میں ترمیم کا فیصلہ امتحان لینے والی جامعات کی درخواست پر کاغذ کی طباعت، حفاظتی اقدامات، انتظامی اخراجات، ممتحنین، نگران عملے کی ادائیگیوں، اور امیدواروں کے لیے مناسب نشستوں و سہولیات کی فراہمی کے بڑھتے ہوئے اخراجات کی وجہ سے کیا گیا پی ایم ڈی سی کے مطابق نمایاں مہنگائی اور بڑھتے ہوئے آپریشنل اخراجات کے باوجود، پی ایم ڈی سی سستی اور منصفانہ پالیسی پر قائم ہے، ادارے نے زور دیا کہ امتحان کو تمام امیدواروں کے لیے قابل رسائی رکھنے کے ساتھ ساتھ معیار اور شفافیت برقرار رکھنے کے لیے متوازن حکمتِ عملی اپنائی گئی ہے.

کونسل نے شفاف، ذمہ دار اور میرٹ پر مبنی داخلوں کے عزم کا اعادہ کیا تاکہ تمام میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو یکساں مواقع فراہم کیے جا سکیں ایم ڈی کیٹ کا داخلہ ٹیسٹ پنجاب میں یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز، لاہور، سندھ کے لیے سکھر آئی بی اے یونیورسٹی، سکھر، خیبر پختونخوا کے لیے خیبر میڈیکل یونیورسٹی، پشاور، بلوچستان کے لیے بولان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز، کوئٹہ اور اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری، آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان اور پی ایم ڈی سی کے بین الاقوامی مرکز (ریاض، سعودی عرب) کے لیے شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی، اسلام آباد کے ذریعے لیا جائے گا.

مقامی اور بین الاقوامی ایم ڈی کیٹ امیدواروں کے لیے آن لائن رجسٹریشن کل سے شروع ہو چکی ہے اور 25 اگست 2025 تک جاری رہے گی اس تاریخ کے بعد لیٹ فیس کے ساتھ رجسٹریشن یکم ستمبر 2025 تک ممکن ہوگی پی ایم ڈی سی نے خبردار کیا کہ امیدوار ایم ڈی کیٹ کے لیے ایک ہی شہر/سینٹر کا احتیاط سے انتخاب کریں اور درخواست فارم تمام ضروری معلومات کے ساتھ پرکریں بصورتِ دیگر آن لائن سسٹم درخواست کو مسترد کر دے گا.

بیان میں کہا گیا کہ یہ امتحان کاغذ پر مبنی ہوگا جو انگریزی زبان میں لیا جائے گا اور اس میں 180 ملٹی پل چوائس سوالات ہوں گے، جن میں منفی مارکنگ نہیں ہوگی 180 سوالات میں سے 81 حیاتیات، 45 کیمیا، 36 طبیعیات، 9 انگریزی اور 9 منطقی استدلال سے متعلق ہوں گے امیدواروں کو ہدایت کی گئی کہ وہ امتحان کا نصاب پی ایم ڈی سی کی ویب سائٹ سے دیکھیں اور اپنی رجسٹریشن مکمل کریں، یہ بھی انتباہ کیا گیا کہ نامکمل درخواستیں قبول نہیں کی جائیں گی جون میں پی ایم ڈی سی نے فیصلہ کیا تھا کہ ایم ڈی کیٹ امیدوار اپنے متعلقہ صوبوں میں ہی امتحان دیں گے جس پر تنازع پیدا ہوگیا تھا کیوں کہ والدین کو خدشہ تھا کہ یہ فیصلہ طلبہ کی حفاظت اور فلاح پر منفی اثر ڈالے گا خاص طور پر ان طلبہ کے لیے جنہوں نے کبھی اپنے آبائی علاقوں کا سفر نہیں کیا.

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) جو ڈاکٹروں کی نمائندہ تنظیم ہے نے اس فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے نوٹیفکیشن واپس لینے کا مطالبہ کیا تھا پی ایم اے کا موقف تھا کہ یہ پالیسی پسماندہ علاقوں کے طلبہ کو غیر متناسب طور پر نقصان پہنچائے گی اور میڈیکل تعلیم تک رسائی محدود کرے گی دوسری جانب نجی ٹی وی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے گزشتہ برس پاکستان بھر سے 32 ہزار 977 امیدواروں نے شرکت کی تھی اس حساب سے رواں برس پی ایم ڈی سی کو 2 ارب 96 کروڑ 34 لاکھ 93ہزار کی آمدنی ہوگی جبکہ بیرون ملک امیدواروں سے رجسٹریشن کی مد میں فی امیدوار 45 ہزار روپے وصول کیے جائیں گے اس طرح پی ایم ڈی سی کو ٹیسٹ سے تقریباً 3 ارب روپے کی آمدنی ہوگی پی ایم ڈی سی کے مطابق ایم ڈی کیٹ رجسٹریشن 8 اگست سے 25 اگست تک جاری ہے جبکہ لیٹ فیس کے ساتھ رجسٹریشن 1 ستمبر 2025 تک جاری رہے گی. 

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے میں کہا گیا کہ میڈیکل اینڈ ڈینٹل پاکستان میڈیکل پی ایم ڈی سی کے پی ایم ڈی سی نے داخلہ ٹیسٹ ایم ڈی کیٹ ہزار روپے کے مطابق کے ساتھ گئی ہے کے لیے

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز کی ٹرافی کی رونمائی، پہلا میچ کل سے شروع ہوگا
  • پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان ٹیسٹ سیریز کی ٹرافی کی رونمائی
  • پشاور: حیات میڈیکل کمپلیکس میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال دوسرے روز بھی جاری، مریض مشکلات سے دوچار
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا