چینی تھنک ٹینک نے پاکستانی طیارے گرانے کا بھارتی دعویٰ مسترد کردیا
اشاعت کی تاریخ: 10th, August 2025 GMT
چینی تھنک ٹینک نے پاکستانی طیارے مار گرانے کا بھارتی فضائیہ کے سربراہ جنرل امر پریت سنگھ کا بے بنیاد دعویٰ مسترد کردیا ہے۔چینی تھنک ٹینک ”چارہار انسٹیٹیوٹ“ کے سینیئر ریسرچ فیلو پروفیسر چِنگ شی ژونگ نے بھارتی فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل امر پریت سنگھ کے پاکستانی طیارے مار گرانے کے دعوے کو سختی سے مسترد کردیا ہے۔پروفیسر چِنگ نے کہا کہ بھارتی فضائیہ کا دعویٰ ”بے بنیاد“ ہے اور اس کے پاس اس کی حمایت میں کوئی ٹھوس شواہد نہیں ہیں۔بھارتی فضائیہ کے سربراہ نے مئی کے اوائل میں ”آپریشن سندور“ کے دوران پاکستان کے پانچ جنگی طیارے اور ایک بڑا جہاز مار گرانے کا دعویٰ کیا تھا۔پروفیسر چِنگ نے کہا کہ بھارتی دعوے میں نہ کوئی طیاروں کے ملبے کی تصاویر ہیں نہ ہی ریڈار مانیٹرنگ ڈیٹا، جو اس دعوے کو ثابت کرنے کے لیے ضروری ہیں۔چینی تھنک ٹینک کے ماہر نے مزید کہا کہ پاکستان نے بھارتی طیارے مار گرانے کے حوالے سے پہلے ہی تفصیلی شواہد پیش کیے ہیں اور ان کی بنیاد پر عالمی میڈیا نے اس پر رپورٹنگ کی ہے۔انہوں نے بھارتی حکام کی طرف سے پیش کیے گئے دعوے کو ”مضحکہ خیز“ اور ”ناقابلِ یقین“ قرار دیتے ہوئے اسے محض ”خود ساختہ تفریح“ سے تعبیر کیا۔پروفیسر چِنگ شی ژونگ نے بھارتی فضائیہ کے سربراہ کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی حکام کی طرف سے پیش کیے گئے دعوے ”مضحکہ خیز“ اور ”ناقابلِ یقین“ ہیں، اور انہیں محض ”خود ساختہ تفریح“ قرار دیا۔پروفیسر چِنگ نے یاد دلایا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان جھڑپوں کو تین ماہ گزر چکے ہیں اور بھارت آج تک کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکا۔ برعکس اس کے، پاکستان نے اس واقعے کے فوراً بعد بین الاقوامی میڈیا کو تفصیلی تکنیکی رپورٹ فراہم کی تھی۔انہوں نے اس بات کی طرف بھی توجہ دلائی کہ عالمی رہنماؤں، بھارتی سیاستدانوں اور غیر ملکی انٹیلیجنس رپورٹس نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ بھارت کو متعدد طیاروں کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا تھا، تاہم حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی طیاروں کو نشانہ نہیں بنایا گیاپروفیسر چنگ نے کہا کہ اس کے برعکس، پاکستان نے 6 بھارتی جنگی طیارے مار گرا کر بھارتی فضائی دفاعی نظام کی ایس-400 پوزیشنوں کو بھی تباہ کیا، جو کہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: بھارتی فضائیہ کے سربراہ چینی تھنک ٹینک پروفیسر چ نگ نے بھارتی طیارے مار دعوے کو کہا کہ
پڑھیں:
سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
سینٹ پیٹرزبرگ روس کا سب سے بڑا اور عالمی سطح پر اہم اقتصادی ایونٹ، سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم 2026ء کل 3 جون سے روس کے تاریخی شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں شروع ہو رہا ہے، جس میں دنیا بھر کے 130 سے زائد ممالک کے حکومتی، کاروباری اور اقتصادی راہنما شرکت کریں گے، پاکستان بھی فورم میں اعلیٰ سطحی وفد کے ساتھ شرکت کر رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستانی وفد کی قیادت وفاقی وزیر توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) علی پرویز ملک کریں گے، وفد میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر، روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی، سفارتخانے کی وزیر تجارت و سرمایہ کاری شبانہ ممتاز، قونصلر حبیب منیر، سیکنڈ سیکرٹری جوشوا ایڈون آرتھر اور سینٹ پیٹرزبرگ میں پاکستان کے اعزازی قونصل جنرل عبدالرؤف رند بھی شامل ہیں۔ 4 روزہ فورم میں عالمی معیشت، توانائی، تجارت، سرمایہ کاری، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، صنعتی ترقی، ٹرانسپورٹ، خوراک اور بین الاقوامی اقتصادی تعاون سمیت متعدد اہم موضوعات پر اعلیٰ سطحی اجلاس، مباحثے اور کاروباری ملاقاتیں منعقد ہوں گی۔
روسی صدر ولادیمیر پوتن فورم کے مرکزی پلینری اجلاس سے خطاب کریں گے، جبکہ دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے حکومتی راہنما، وزراء، سرمایہ کار، صنعتکار اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندے بھی فورم میں شریک ہوں گے۔ پاکستانی وفد کی شرکت کو روس اور پاکستان کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے، توقع ہے کہ فورم کے دوران پاکستانی نمائندے روسی حکام، سرمایہ کاروں اور کاروباری شخصیات کے ساتھ ملاقاتیں کریں گے، جن میں توانائی، پیٹرولیم، صنعت، تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر بات چیت ہوگی۔ مبصرین کے مطابق پاکستان اس وقت توانائی، معدنیات، انفراسٹرکچر اور صنعتی شعبوں میں بیرونی سرمایہ کاری کے حصول پر خصوصی توجہ دے رہا ہے جبکہ روس کے ساتھ اقتصادی تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنا بھی حکومتی ترجیحات میں شامل ہے۔
فورم میں شرکت پاکستان کو نہ صرف روس بلکہ دیگر ممالک کے سرمایہ کاروں اور کاروباری اداروں کے ساتھ براہ راست رابطوں کا موقع فراہم کرے گی، ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے بین الاقوامی پلیٹ فارمز پاکستان کے لیے سرمایہ کاری، برآمدات اور اقتصادی شراکت داریوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔واضح رہے کہ سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم 3 سے 6 جون تک جاری رہے گا اور اسے روس کا سب سے بڑا بین الاقوامی اقتصادی فورم تصور کیا جاتا ہے، اس سال فورم کا موضوع "عملی مکالمہ ایک مستحکم مستقبل کی جانب"رکھا گیا ہے، جس میں عالمی معیشت کو درپیش چیلنجز اور مستقبل کے مواقع پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔