ملک بھر میں شدید بارشوں کا امکان، لینڈ سلائیڈنگ اور اربن فلڈنگ کا خدشہ
اشاعت کی تاریخ: 13th, August 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) محکمہ موسمیات نے آئندہ دنوں میں ملک کے بیشتر حصوں میں بارشوں کی شدت بڑھنے کی پیش گوئی کرتے ہوئے شہریوں اور متعلقہ اداروں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت دی ہے۔
پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق آج اسلام آباد، پنجاب کے مختلف اضلاع، بالائی خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں کہیں ہلکی تو کہیں موسلادھار بارش کا امکان ہے۔ اس وقت مغربی ہوائیں شمالی اور بالائی علاقوں میں نمی اور ٹھنڈک لا رہی ہیں، تاہم 17 اگست سے ان کی شدت میں اضافہ متوقع ہے جو بارش کے سلسلے کو مزید تیز کرے گا۔
14 سے 17 اگست کے دوران اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور، گوجرانوالہ، سرگودھا، ایبٹ آباد، مانسہرہ، مظفرآباد، میرپور، گلگت اور سکردو میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش ہو سکتی ہے۔
پی ڈی ایم اے نے بتایا کہ 17 اگست سے خلیج بنگال سے مرطوب ہواؤں کا نیا سلسلہ داخل ہوگا جو مغربی ہواؤں کے ساتھ مل کر طاقتور موسمی نظام تشکیل دے گا۔ اس کے نتیجے میں 18 سے 21 اگست کے دوران کراچی، حیدرآباد، سکھر، کوئٹہ، پشاور، لاہور، فیصل آباد، اسلام آباد اور دیگر شہروں میں شدید بارشیں متوقع ہیں۔
اس دوران پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ جبکہ شہری و نشیبی علاقوں میں اربن فلڈنگ اور ندی نالوں میں طغیانی کا خطرہ بڑھ جائے گا۔ عوام کو مشورہ دیا گیا ہے کہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، کھلے مقامات اور ندی نالوں کے قریب جانے سے احتیاط کریں، اور موسمی اپ ڈیٹس پر نظر رکھیں تاکہ ممکنہ جانی و مالی نقصان سے بچا جا سکے۔
Post Views: 5.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
سکھر:سندھ کے مختلف اضلاع میں آنے والی شدید آندھی، مٹی کے طوفان اور موسلا دھار بارش نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔
مورو میں طوفانی ہواؤں کے باعث گھروں، دکانوں، ہوٹلوں اور سرکاری و نیم سرکاری عمارتوں کی چھتوں پر نصب سولر پلیٹیں اور سائن بورڈ اکھڑ کر دور جا گرے جبکہ متعدد مقامات پر درخت اور بجلی کی تاریں بھی زمین بوس ہوگئیں۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق مختلف حادثات میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
کئی علاقوں میں شہری خوف و ہراس کا شکار رہے جبکہ طوفان کے باعث معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے۔
دوسری جانب لاڑکانہ، شکارپور، دادو اور گرد و نواح میں خراب موسمی صورتحال کے باعث بجلی کا ترسیلی نظام بھی بری طرح متاثر ہوا۔
سیپکو حکام کے مطابق شدید آندھی اور بارش کے نتیجے میں 220 کے وی گرڈ اسٹیشن لوڈرا، شکارپور اور دادو سے آنے والی 132 کے وی مین سپلائی متاثر ہوگئی جس کے باعث لاڑکانہ سرکل کے متعدد فیڈرز بند ہوگئے۔
سیپکو کنٹرول سینٹر کے مطابق طوفانی موسم سے 220 کے وی اور 132 کے وی کی متعدد اہم ٹرانسمیشن لائنیں ٹرپ کر گئیں جبکہ کئی مقامات پر ٹاورز، پولز اور بجلی کی لائنوں کو نقصان پہنچا ہے۔
صورتحال کے باعث مجموعی طور پر 46 گرڈ اسٹیشنز متاثر ہوئے جس سے لاڑکانہ، قمبر، شہدادکوٹ، کشمور، کندھکوٹ، گھوٹکی، خیرپور، نوشہروفیروز، مورو اور دیگر علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل یا شدید متاثر ہوگئی۔
سیپکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئر اعجاز احمد چنہ کی ہدایات پر آپریشن، کنسٹرکشن، جی ایس او اور فیلڈ ٹیموں کو ہنگامی بنیادوں پر متحرک کر دیا گیا ہے۔
انجینئرز اور تکنیکی عملہ متاثرہ علاقوں میں مرمتی کاموں میں مصروف ہے اور خراب ہونے والے پولز، ٹاورز اور ٹرانسمیشن لائنوں کی بحالی کا عمل جاری ہے۔
سیپکو حکام کا کہنا ہے کہ ادارہ اپنے تمام دستیاب وسائل استعمال کرتے ہوئے بجلی کی جلد بحالی کے لیے کام کر رہا ہے تاہم شدید موسمی حالات کے باعث مرمتی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔
متاثرہ علاقوں کے صارفین سے صبر و تحمل کی اپیل کرتے ہوئے یقین دلایا گیا ہے کہ بجلی کی فراہمی جلد از جلد بحال کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔