اسلام آباد:

وزیراعظم شہباز شریف نے قوم کو 79 ویں یوم آزادی کی مبارک باد دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کی مسلط کردہ جنگ میں پاکستان کی عظیم فتح نے یوم آزادی کی نہ صرف اہمیت میں اضافہ کردیا ہے بلکہ پاکستانیوں کے دل میں ایک نئی امنگ اور جذبہ بھی بیدار کردیا ہے جس سے جشن آزادی کی خوشیاں دوبالا ہوگئی ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے یوم آزادی پر پیغام میں کہا کہ آج کے دن اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ شکر ادا کرتے ہوئے پاکستان کے 78 سال مکمل ہونے پر قوم کو تہہ دِل سے مبارک پیش کرتا ہوں۔

وزیراعظم نے کہا کہ بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناحؒ اور مفکر پاکستان علامہ محمد اقبالؒ سمیت تحریک آزادی کے بلند ہمت، دُور اندیش قائدین اور کارکنوں کو سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے بکھری ہوئی قوم کو ایک فکر، ایک مشن اور ایک نصب العین پر نہ صرف متحد کیا بلکہ اپنی ولولہ انگیز سیاسی جدوجہد کے ذریعے تاریخ کا دھارا موڑ کر ایک الگ نظریاتی ریاست کے قیام کے ناممکن سمجھے جانے والے خواب کو شرمندہ تعبیر کر دکھایا۔

انہوں نے کہا کہ گزرے 78 سال آزمائش آمیز سفر، اللہ پر کامل یقین اور تابناک مستقبل کی امید کی کہانی ہے جس میں ہمیں بطور قوم کئی مشکل مراحل سے گزرنا پڑا لیکن اس سب کے باوجود پاکستان نے ہر شعبے میں کامیابیوں اور کامرانیوں کے کئی سنگ میل عبور کیے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ معیشت سے کھیل کے میدانوں اور دفاع سے آئی ٹی تک ہر شعبے میں پاکستانیوں نے اپنی بے مثال عزم وہمت اور علم وہنر کے باب رقم کیے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ بھارت کی مسلط کردہ جنگ، 6 سے 10 مئی 2025 کے دوران، معرکہ حق میں پاکستان کی عظیم فتح نے 79ویں یوم آزادی کی نہ صرف اہمیت میں اضافہ کردیا ہے بلکہ پاکستانیوں کے دل میں ایک نئی امنگ اور جذبہ بھی بیدار کردیا ہے جس سے جشن آزادی کی خوشیاں دوبالا ہوگئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اللہ تعالی کے فضل سے بھارت کے اس حملے میں اپنی تابندہ روایات دہراتے ہوئے ہماری بہادر مسلح افواج نے بنیان مرصوص بن کر دشمن کے غرور کا بت پاش پاش کردیا، ہمارے شیروں اور شاہینوں کی عسکری مہارت، بہادری اور جذبہ ایمانی نے دشمن کو چند گھنٹوں میں ہی گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ آزادی کی ٹھنڈی چھاؤں فراہم کرنے والے شہدا کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے اُن کے درجات کی بلندی کی دعا کرتے ہیں۔

بھارت کو معرکہ حق میں شکست دینے کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ یہ صرف عسکری فتح نہیں تھی بلکہ دوقومی نظریے کی صداقت کی بھی جیت تھی جو وطنِ عزیز کی اساس ہے، ہم اپنے دفاع اور آبی وسائل سمیت قومی مفادات کے تحفظ کے لیے اسی جذبے سے آگے بڑھتے رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سالمیت، دفاع اور تحفظ کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے امن پسند قوم کے طور پر یہ بھی دہراتے ہیں کہ ہم خطے اور دنیا میں پرامن بقائے باہمی اور بات چیت کے سفارتی ذرائع سے مسائل کے حل پر یقین رکھتے ہیں اور بھارت کو بھی اسی جذبے سے جموں وکشمیر سمیت تمام تنازعات کے حل کی طرف آنا ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے عام شہری کی فلاح و بہبود کو ترجیح دی ہے، برسوں کے مسلسل بوجھ کے بعد بجلی کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی کی گئی ہے، جس سے عوام اور صنعتوں کو یکساں طور پر ریلیف مل رہا ہے، آج میں بطور وزیراعظم بالخصوص اس عزم کا بھی اعادہ کرتا ہوں کہ حکومت اپنے تمام تر وسائل بروئے کار لاتے ہوئے پاکستان کو جدید ٹیکنالوجی اور عصر حاضر کے نئے معاشی و صنعتی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ تمام پالیسیوں اور پروگراموں سے قطع نظر پاکستان کے عروج کے پیچھے اصل قوت ہمارا اتحاد ہے، دفاع کی طرح معاشی طورپر ناقابل تسخیر ہونا، قومی دفاع اور سالمیت کا ایک بہت بڑی ضرورت ہے جس کے لیے ہم سب کو معرکہ حق اور تحریک پاکستان جیسے پرخلوص جذبے کی ضرورت ہے۔

ملک میں اتحاد و اتفاق قائم کرنے کے لیے وزیراعظم نے کہا کہ میں تمام سیاسی جماعتوں اور تمام طبقات کو آج کے دن پرخلوص پیش کش کرنا چاہتا ہوں کہ اتحاد واتفاق سے قومی مفادات کے تحفظ اور فروغ کے لیے اشتراک عمل کی راہ اپنائیں تاکہ ہم بحیثیت مجموعی قوم کو ترقی وخوش حالی کی اس منزل سے ہم کنار کریں جس کا خواب قیام پاکستان کی صورت ہمارے اسلاف اور شہیدوں نے دیکھا تھا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ یوم آزادی کی پاکستان کی کرتے ہوئے کردیا ہے کے لیے قوم کو

پڑھیں:

بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟

گزشتہ ماہ 15 مئی کو بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریا کانت نے ایک سماعت کے دوران جعلی ڈگریوں کے ذریعے مختلف پیشوں میں آ جانے والے لوگوں کو پیراسائٹس قرار دیا تو ان کے اِس بیان نے نہ صرف سوشل میڈیا پر ایک بحث کو جنم دیا بلکہ ایک سیاسی جماعت بھی قائم ہوگئی جس کا نام ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ رکھا گیا۔

گوکہ بعد میں بھارتی چیف جسٹس کانت نے وضاحت کی کہ ان کے الفاظ کو غلط انداز میں پیش کیا گیا اور ان کا ہدف تمام بے روزگار نوجوان نہیں تھے بلکہ مخصوص افراد تھے جنہوں نے جعلی اسناد کے ذریعے پیشہ ورانہ شعبوں میں جگہ بنائی لیکن بیان پر آنے والا عوامی ردعمل کم نہیں ہوا۔

مزید پڑھیں: کاکروچ جنتا پارٹی: اکاؤنٹس ہیک، اہلخانہ کو ہراساں کیا جا رہا ہے، بانی بھارتی جین زی اکاؤنٹ

بھارتی حکومت کی جانب سے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات ’کاؤنٹر پروڈکٹو‘ ثابت ہو رہے ہیں۔

بھارتی حکومت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کو محدود کرنے کی کوششیں کی ہیں لیکن یہ اقدامات جین زی کو پارٹی سے زیادہ جوڑ رہے ہیں۔

کاکروچ جنتا پارٹی کیسے بنی؟

بھارتی چیف جسٹس سوریا کانت کے ریمارکس کے ردعمل میں امریکا میں مقیم بھارتی طالب علم اور تعلقاتِ عامہ کے ماہر ابھیجیت دیپکے نے سوشل میڈیا پر ایک طنزیہ سیاسی پلیٹ فارم قائم کیا جس کا نام ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ رکھا گیا۔

ابتدائی طور پر یہ ایک مزاحیہ اور طنزیہ مہم تھی، لیکن چند ہی دنوں میں لاکھوں نوجوان اس میں شامل ہوگئے۔ پارٹی نے اپنے آپ کو بے روزگار، آن لائن رہنے والے اور نظام سے مایوس نوجوانوں کی آواز کے طور پر پیش کیا اور اس کا مقصد روایتی سیاست کا مذاق اڑانا تھا۔

نوجوان نسل میں بڑھتا ہوا غم و غصہ بی جے پی کے سوشل میڈیا پر غلبے کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت جس طرح اصل مسائل سے صرفِ نظر کرتے ہوئے تمام مسائل کو مذہب سے جوڑتی چلی آئی ہے اور جس طرح سے اس نے نوجوانوں کی بے روزگاری اور تعلیمی مسائل کو قالین کے نیچے چھپانے کی کوشش کی ہے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کی مقبولیت نے تمام مفروضے غلط ثابت کر دیے ہیں۔

بھارتی سوشل میڈیا جو زیادہ تر وہاں دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے غلبے میں ہے اور جہاں بی جے پی پر تنقید کو ہندوؤں پر تنقید سے تعبیر کرکے ٹرولنگ اور نفرت کا نشانہ بنایا جاتا ہے، ایسے ماحول کے اندر کاکروچ جنتا پارٹی کا بی جے پی کے سوشل میڈیا غلبے کو توڑنا ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔

کاکروچ جنتا پارٹی اب تک کیا کچھ کر چُکی ہے؟

’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے قیام کے بعد محض 2 ہفتوں کے اندر یہ ایک سوشل میڈیا مذاق یا میم مہم سے بڑھ کر ایک قابلِ ذکر سیاسی و سماجی فِنامنا بن گئی ہے۔ لاکھوں نوجوانوں نے آن لائن اس کی رکنیت اختیار کی جبکہ انسٹاگرام، ایکس اور دیگر پلیٹ فارمز پر اس کے صفحات نے غیر معمولی مقبولیت حاصل کی۔

چند ہی دنوں میں اس کے انسٹاگرام فالوورز کی تعداد کروڑوں تک جا پہنچی ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی جو تاحال ایک غیر منظم تحریک کی شکل میں موجود ہے اس نے بے روزگاری، نوکریوں کے لیے مقابلے کے امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں، پرچہ لیک اسکینڈلز، مہنگائی اور نوجوانوں کے معاشی مسائل کو اپنی مہم کا مرکزی موضوع بنایا۔

حکومت کی جانب سے اس کے ایکس اکاؤنٹ کو بھارت میں محدود یا معطل کیے جانے کے بعد معاملہ مزید توجہ کا مرکز بن گیا اور اس اقدام کو عدالت میں چیلنج کیا گیا، جس کے نتیجے میں آزادیِ اظہار اور سوشل میڈیا سنسرشپ پر نئی بحث چھڑ گئی۔

ادھر دہلی، ممبئی، پونے، بنگلورو اور دیگر شہروں میں نوجوانوں نے علامتی احتجاجی سرگرمیوں کا انعقاد کیا جہاں بعض شرکا نے کاکروچ کے ماسک اور ملبوسات پہن کر خود کو اس متنازع اصطلاح سے منسلک کیا جس نے اس تحریک کو جنم دیا تھا۔

تحریک کے بانی ابھجیت دیپکے نے خدشہ ظاہر کیا کہ بھارت واپسی کی صورت میں انہیں قانونی کارروائی یا گرفتاری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اس تمام عرصے میں کاکروچ جنتا پارٹی نے نوجوان نسل کے سوالات کو ایک منظم اور نمایاں ڈیجیٹل آواز فراہم کردی، جس کے باعث یہ معاملہ اب محض ایک طنزیہ مہم نہیں بلکہ بھارت کے سیاسی مباحثے کا اہم موضوع بن چکا ہے۔

کیا کاکروچ جنتا پارٹی واقعی سیاسی قوت بن سکتی ہے؟

پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے 6 جون کو بھارت واپسی اور جنتر منتر (دہلی میں احتجاجات کے لیے معروف مقام) پر احتجاجی دھرنے کا اعلان کیا ہے جو وزیرِ تعلیم کے استعفیٰ کے لیے دیا جائے گا۔

2011-12 میں بھارتی سماجی کارکن انا ہزارے نے بھی جنتر منتر پر دھرنا دیا تھا جس کا مقصد کرپشن کے خلاف لوک پال بِل (قانون سازی) کی منظوری تھا جس میں وہ کامیاب رہے لیکن انا ہزارے نے اپنی تحریک کو سیاسی تحریک نہیں بنایا تھا، تاہم ان کی جماعت کے ایک سرکردہ رہنما اروند کیجریوال نے بعدازاں ایک سیاسی جماعت عام آدمی پارٹی کی بنیاد رکھی جس نے پہلے دہلی اور اب بھارتی پنجاب میں حکومت بنا رکھی ہے۔

کاکروچ جنتا پارٹی اپنی مقبولیت کے باعث کوئی سیاسی جماعت قائم کر سکے گی یا نہیں اس پر بھارت کے سیاسی مبصرین منقسم ہیں۔

بعض تجزیہ کاروں کے مطابق کاکروچ جنتا پارٹی صرف ایک ’میم موومنٹ‘ ہے جو وقت کے ساتھ ختم ہو جائے گی۔ اس کے پاس نہ تنظیمی ڈھانچہ ہے، نہ مقامی قیادت اور نہ ہی کوئی واضح انتخابی حکمت عملی۔

مزید پڑھیں: کاکروچ جنتاپارٹی کا بھارتی وزیرِ تعلیم کیخلاف احتجاج کا اعلان

دوسری جانب کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ اس کی اصل اہمیت انتخابات میں نہیں بلکہ اس حقیقت میں ہے کہ اس نے نوجوانوں کی ناراضی کو منظم شکل دے دی ہے۔ یہ تحریک شاید خود سیاسی جماعت نہ بن سکے، لیکن اس نے بھارتی سیاست کو یہ پیغام ضرور دیا ہے کہ سوشل میڈیا کی نئی نسل روایتی نعروں سے مطمئن نہیں ہوتی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بھارت بھارتی چیف جسٹس حکومت کے لیے چیلنج سوشل میڈیا مہم کاکروچ جنتا پارٹی وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کے کروڑوں غریب موبائل صارفین کے لئے خطرے کی گھنٹی بج گئی
  • چیئرمین سینیٹ سے اٹالین سفیر کی غیر رسمی ملاقات ،دونوںملکوں کے تعلقات مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • لاہور بلدیاتی الیکشن، 159 یوسیز کا اضافہ، مجموعی تعداد 433 ہوگئی
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ