لاہور اسلام آباد موٹر وے پر سفر کرنے والوں کے لیے بُری خبر، ٹول ٹیکس میں پھر اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 26th, August 2025 GMT
نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے لاہور-اسلام آباد موٹروے (M-2) کے ٹول ٹیکس میں اضافے کا اعلان کر دیا ہے۔ نئے نرخ 26 اگست 2025 سے 25 اگست 2026 تک نافذ العمل رہیں گے۔
پیر کے روز جاری کیے گئے سرکاری اعلامیے کے مطابق، یہ اضافہ ہر سال ہونے والے 10 فیصد اضافے کا حصہ ہے، جو 23 اپریل 2014 کو فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (FWO) کی ذیلی کمپنی موٹروے آپریشنز اینڈ ری ہیبیلیٹیشن انجینئرنگ پرائیویٹ لمیٹڈ کے ساتھ طے پانے والے کنسیشن ایگریمنٹ کے تحت کیا جاتا ہے۔ یہ معاہدہ Build-Operate-Transfer (BOT) بنیاد پر ہے، اور اس میں دوسرے آپریشنل سال سے ہر سال شرح میں اضافہ لازمی قرار دیا گیا ہے۔
یہ نیا اضافہ موٹروے استعمال کرنے والے عام مسافروں اور ٹرانسپورٹ کے کاروبار سے جڑے افراد پر براہِ راست اثر ڈالے گا۔
ماہرین کے مطابق، کار اور جیپ کے کرایوں میں محدود فرق آئے گا لیکن بسوں اور فریٹ وہیکلز کے بڑھتے ہوئے اخراجات کرایوں اور مال برداری کی لاگت کو خاصا متاثر کر سکتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایم ٹو لاہور اسلام آباد موٹر وے ٹول ٹیکس.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایم ٹو
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔