عوامی مقبولیت کے باوجود ایپل کی فہرست سے ’گروک‘ باہر، ایلون مسک شدید ناراض
اشاعت کی تاریخ: 26th, August 2025 GMT
ایپس کی دنیا میں ریٹنگز اور ریویوز کسی بھی سافٹ ویئر کی کامیابی کے اہم اشارے سمجھے جاتے ہیں۔ عام طور پر وہ ایپس جنہیں لاکھوں مثبت ریویوز ملیں، ایپل ایپ اسٹور اور گوگل پلے اسٹور کی نمایاں فہرستوں میں جگہ حاصل کرتی ہیں۔
ٹیسلا، اسپیس ایکس اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” کے مالک ایلون مسک نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کی کمپنی کا اے آئی چیٹ بوٹ “گروک” صارفین میں بے حد مقبول ہوا ہے، لیکن ایپل نے جان بوجھ کر اسے اپنی نمایاں فہرستوں میں شامل نہیں کیا۔
مسک نے اسے غیر منصفانہ رویہ قرار دیا اور کہا کہ اگر صورتحال برقرار رہی تو وہ ایپل کے خلاف اینٹی ٹرسٹ مقدمہ دائر کریں گے۔
گروک کے لانچ کے بعد سے ہی اسے شاندار کامیابی ملی۔ گوگل پلے اسٹور پر ایک ملین سے زیادہ ریویوز موصول ہوئے جبکہ ایپل پلیٹ فارم پر دس لاکھ سے زائد ریٹنگز کے ساتھ اس کی اوسط 4.
اے پی نیوز کے مطابق، مسک کا مؤقف ہے کہ ایپل بڑی کمپنیوں کے دباؤ اور نئے حریفوں کو روکنے کے لیے ایسا کر رہا ہے۔
ایپل نے مسک کے الزامات کو رد کرتے ہوئے کہا کہ ایپ اسٹور ایک غیر جانبدار اور شفاف پلیٹ فارم ہے، جہاں الگورتھم اور ماہرین کی ٹیم فیصلہ کرتی ہے کہ کون سی ایپس کو نمایاں کیا جائے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد صارفین کو محفوظ اور معیاری ایپس فراہم کرنا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں جب ایپل پر اجارہ داری کے الزامات لگے ہیں۔ اس سے قبل یورپی یونین نے ایپل پر بھاری جرمانہ عائد کیا تھا جبکہ امریکی عدالت نے ایپک گیمز کے کیس میں بھی کمپنی کے خلاف فیصلہ دیا تھا۔
Post Views: 3
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
اسرائیل کے اعتراض کے باوجود مقبوضہ مغربی کنارہ کا علاقہ اور لبنانی قلعے عالمی ورثے قرار
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو کی عالمی ورثہ کمیٹی نے اسرائیل کے اعتراضات کے باوجود مقبوضہ مغربی کنارے کے تاریخی مقام سبسطیہ اور جنوبی لبنان کے جبل عامل خطے کے پانچ تاریخی قلعوں کو عالمی ثقافتی ورثہ قرار دے دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق دونوں مقامات کو ساتھ ہی خطرے سے دوچار عالمی ورثہ کی فہرست میں بھی شامل کیا گیا ہے۔
اسرائیل نے اس فیصلے پر اعتراض کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ اقدام سیاسی نوعیت کا ہے، اور خاص طور پر لبنان کے بیوفورٹ قلعہ کے حوالے سے سکیورٹی خدشات کا اظہار کیا۔
دوسری جانب فلسطینی اور لبنانی حکام نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے تاریخی اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا۔
یونیسکو کی کمیٹی نے لبنان کے قدیم شہر صور کو بھی تنازع اور ممکنہ نقصان کے خدشات کے باعث خطرے سے دوچار عالمی ورثے کی فہرست میں شامل کیا ہے۔