Daily Mumtaz:
2026-06-03@07:26:36 GMT

مچھ: کوئلے کی کان میں زہریلی گیس بھرنے سے 3 مزدور جاں بحق

اشاعت کی تاریخ: 26th, August 2025 GMT

مچھ: کوئلے کی کان میں زہریلی گیس بھرنے سے 3 مزدور جاں بحق

بلوچستان کے علاقے مچھ کی ڈیگاری کوئلہ کان میں افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں زہریلی گیس بھر جانے کے باعث 3 کان کن زندگی کی بازی ہار گئے۔
چیف مائنز انسپکٹر عبدالغنی کے مطابق یہ حادثہ ایک نجی کان میں پیش آیا۔ واقعہ اس وقت پیش آیا جب مزدور زیر زمین جمع پانی نکالنے کے لیے کان کے اندر گئے، مگر وہاں زہریلی گیس پہلے ہی جمع ہو چکی تھی۔ بدقسمتی سے کان کے اندر گیس سے بچاؤ کے لیے کوئی حفاظتی انتظامات نہیں کیے گئے تھے، جس کے باعث تینوں مزدور بے ہوش ہو کر وہیں دم توڑ گئے۔
حادثے کی اطلاع رات گئے ملی، جس پر محکمہ مائنز کا عملہ فوری طور پر موقع پر پہنچا، لاشوں کو تحویل میں لیا اور قانونی کارروائی کے بعد ورثا کے حوالے کر دیا۔
چیف مائنز انسپکٹر نے مزید بتایا کہ متاثرہ کان کا معائنہ کیا گیا، اور حفاظتی اقدامات کی سنگین کمی پر اسے فوری طور پر سیل کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جان لیوا غفلت برتنے پر کان کے مالک اور ٹھیکیدار کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے گا۔
جاں بحق ہونے والوں میں دو مزدور کوئٹہ کے علمدار روڈ جبکہ ایک ہزارہ ٹاؤن کا رہائشی تھا۔ واقعہ نے متاثرہ خاندانوں پر غم کا پہاڑ توڑ دیا ہے اور ایک بار پھر کانوں میں مزدوروں کی حفاظت سے متعلق حکومتی اور نجی سطح پر غفلت کو بے نقاب کر دیا ہے۔

 

Post Views: 7.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

کم از کم ماہانہ اجرت کتنی ہونی چاہیے؟  نئے مالی سال کے لیے سفارش کردی گئی

نئے مالی سال کے لیے کم از کم اجرت  مقرر کرنے کے حوالے سے نئی سفارش سامنے آ گئی۔

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے مالی سال 27-2026 کے لیے ملک میں کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی باضابطہ سفارش کر دی ہے۔

نجی ٹی وی کے مطابق پائیڈ نے اپنے شواہد پر مبنی فریم ورک کے ذریعے موجودہ 40 ہزار روپے کی تنخواہ میں 12.5 فیصد اضافے کا منصوبہ پیش کیا ہے۔ یہ تجویز قومی سطح پر ملازمین کے مالی حالات کو بہتر بنانے اور معاشی استحکام کی جانب ایک اہم قدم کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔

رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ کم از کم اجرت کا تعین اب صرف محکمۂ محنت کا داخلی معاملہ نہیں رہا، بلکہ یہ فیصلہ ملکی معیشت کے وسیع تر پہلوؤں پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ اس میں شہریوں کی قوتِ خرید، غربت کی شرح، غیر رسمی روزگار اور مقامی طلب جیسے اہم عوامل شامل ہیں۔

ادارے نے مزید واضح کیا کہ تنخواہوں میں یہ ردوبدل پیداواری ترغیبات بڑھانے اور سماجی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے۔

رپورٹ کے مطابق مالی سال 2026 کے جولائی سے اپریل تک اوسط افراطِ زر 6.19 فیصد ریکارڈ کی گئی، جبکہ اپریل 2026 میں سال بہ سال بنیادوں پر افراطِ زر کی شرح 10.9 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔

متعلقہ مضامین