گوگل ڈرائیو میں ویڈیو ایڈیٹنگ کا فیچر متعارف
اشاعت کی تاریخ: 26th, August 2025 GMT
ٹیکنالوجی کمپنی گوگل نے ڈرائیو میں ویڈیو ایڈیٹنگ کا فیچر متعارف کرا دیا۔
حال ہی میں گوگل نے اپنے کلاؤڈ اسٹوریج پلیٹ فارم پر آٹومیٹک کیپشننگ، وژوئل ری ڈیزائن، نئی اپ ڈیٹ ہونے ولی ویڈیوز کے لیے انسٹنٹ پلے بیک، ٹائم اسٹیمپڈ ٹرانسکرپٹ اور یہاں تک کے یوٹیوب کے جیسا تھمب نیل پری ویو فیچر متعارف کرایا تھا۔
کمپنی کی جانب سے پلیٹ فارم پر گوگل وڈز کا تازہ ترین اضافہ کیا گیا ہے۔ ورک اسپیس ڈومین کے صارفین جلد ہی ڈرائیو میں ویڈیو چلانے پر دائیں ہاتھ پر اوپر کی جانب جامنی رنگ کا گوگل وڈز کا نشان دیکھ سکیں گے۔
اس نشان کو کلک کرنے چلائی گئی ویڈیو گوگل وڈز میں کھلے گی اور صارفین اس میں ٹرمنگ، میوزک جیسے میڈیا کا اضافہ، ٹیکسٹ اوور لے کا اضافہ اور اس جیسے دیگر امور انجام دے سکیں گے۔
ایڈیٹنگ تمام ہونے کے بعد ایک وڈز فائل بن جاتی ہے جس کے بعد صارف کو فائل کو علیحدہ سے سیو یا ایکسپورٹ کرنا ہوتا ہے۔
تاہم، اس اپ ڈیٹ کی کچھ حدود بھی ہیں۔ یہ فیچر صرف ایم پی 4، کوئک ٹائم، او جی جی اور ویب ایم ویڈیوز پر کام کر سکے گا جو کہ دورانیے میں 35 منٹ اور سائز میں 4 جی بی سے کم ہوگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ایران کا بحرین میں ایمیزون کے ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنانے کا بڑا دعویٰ
تہران / منامہ: ایران کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحرین میں امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایمیزون کے ایک ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ کارروائی امریکا کے خلاف جاری جوابی اقدامات کا حصہ ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے ایک بیان میں کہا کہ حملے کا ہدف امریکی کمپنی ایمیزون کی وہ ڈیٹا تنصیب تھی جو ان کے بقول امریکی فوج کو معلوماتی معاونت فراہم کرنے میں کردار ادا کر رہی تھی۔
بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ مذکورہ ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا تاہم ایرانی حکام نے اس دعوے کے حق میں فوری طور پر کوئی شواہد یا مزید تفصیلات پیش نہیں کیں۔
دوسری جانب خبر شائع ہونے تک امریکی کمپنی ایمیزون، بحرین کی حکومت یا امریکی حکام کی جانب سے ایران کے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ آزاد ذرائع سے بھی اس حملے یا اس کے ممکنہ نقصانات کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
ایران نے ایک بار پھر اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں وہ تمام فوجی اڈے یا تنصیبات جو امریکا ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کرتا ہے، ایران کی نظر میں جوابی حملوں کے لیے جائز ہدف ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ایران کے دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ پہلی بار ہوگا کہ کسی بڑی عالمی ٹیکنالوجی کمپنی کی تنصیب کو ایران نے براہِ راست اپنی فوجی کارروائی کا ہدف قرار دیا ہے۔ تاہم اس معاملے کی آزادانہ تصدیق کا انتظار کیا جا رہا ہے۔