امریکا کا غزہ کے مستقبل پر جامع منصوبہ تیار، صدر ٹرمپ براہِ راست قیادت کریں گے
اشاعت کی تاریخ: 27th, August 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آج وائٹ ہاؤس میں غزہ کی جنگ کے بعد کے منصوبوں پر ایک بڑے اجلاس کی صدارت کریں گے۔ یہ بات ان کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے منگل کے روز بتائی۔
اسٹیو وٹکوف نے فوکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ صدر کی سربراہی میں ایک بڑا اجلاس ہو رہا ہے، یہ ایک جامع منصوبہ ہے جسے حتمی شکل دی جائے گی، تاہم انہوں نے مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔
یہ بھی پڑھیں:
یہ سوال پوچھے جانے پر کہ کیا واقعی غزہ کے مستقبل کے لیے کوئی منصوبہ موجود ہے، اسٹیو وٹکوف نے صرف اتنا کہا کہ لوگ جلد ہی دیکھیں گے کہ یہ منصوبہ کس قدر ’مضبوط اور نیک نیتی پر مبنی‘ ہے۔
خیال رہے کہ صدر ٹرمپ نے رواں برس کے آغاز میں ایک متنازع تجویز دی تھی جس نے دنیا کو حیران کر دیا تھا، انہوں نے کہا تھا کہ امریکا کو غزہ کی پٹی کا کنٹرول سنبھال لینا چاہیے، وہاں سے 2 ملین فلسطینیوں کو نکال کر ساحلی علاقے کو ترقی دے کر ’مشرقِ وسطیٰ کے ریویئرا‘ میں تبدیل کر دینا چاہیے۔
مزید پڑھیں:
اس تجویز کو اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے تو سراہا تھا مگر یورپی اور عرب ممالک کی جانب سے اسے سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
اقوامِ متحدہ کے مطابق، اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں اب تک غزہ میں کم از کم 62 ہزار 800 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسٹیو وٹکوف اسرائیلی وزیراعظم اقوام متحدہ امریکا ڈونلڈ ٹرمپ عرب غزہ فلسطینی فوکس نیوز متنازع تجویز مشرق وسطیٰ نیتن یاہو وائٹ ہاؤس.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسٹیو وٹکوف اسرائیلی وزیراعظم اقوام متحدہ امریکا ڈونلڈ ٹرمپ فلسطینی فوکس نیوز متنازع تجویز نیتن یاہو وائٹ ہاؤس اسٹیو وٹکوف
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔