مقبوضہ کشمیر میں بارش اور لینڈ سلائیڈنگ سے تباہی، 30 افراد جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 27th, August 2025 GMT
مقبوضہ کشمیر میں مسلسل بارش نے تباہی مچا دی، مختلف علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں 30 افراد زندگی کی بازی ہار گئے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق منگل کے روز تیسرے دن بھی موسلادھار بارش جاری رہی۔ صرف جموں میں ایک دن کے دوران 360 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
بارش اور لینڈ سلائیڈنگ سے دوڈہ اور ویشنو دیوی یاترا روٹ پر سب سے زیادہ جانی نقصان ہوا۔ حکام کے مطابق صورتحال سنگین ہونے پر جموں و کشمیر انتظامیہ نے تمام تعلیمی ادارے اور دفاتر بند کرنے کا اعلان کیا ہے، البتہ ایمرجنسی سروسز اور امن و امان سے متعلق ادارے کھلے رہیں گے۔
محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ جموں، کٹھوعہ اور ادھم پور کے کئی علاقوں میں بارش کا سلسلہ مزید جاری رہ سکتا ہے جس سے مزید لینڈ سلائیڈنگ اور نقصان کا خدشہ ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: لینڈ سلائیڈنگ
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔