29 اگست سے 2 ستمبر تک مزید بارشیں متوقع، پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
اشاعت کی تاریخ: 27th, August 2025 GMT
محکمہ موسمیات نے ایک بار پھر ملک بھر میں بارشوں کا نیا سلسلہ شروع ہونے کی پیشگوئی کر دی ، جو 29 اگست سے 2 ستمبر تک جاری رہنے کا امکان ہے۔ عوام کو ممکنہ سیلابی صورتحال، لینڈ سلائیڈنگ اور نشیبی علاقوں کے زیرِ آب آنے سے متعلق ہوشیار رہنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔
کہاں کہاں بارش ہوگی؟
محکمہ موسمیات کے مطابق، بارشوں کا دائرہ کار پورے ملک پر محیط ہوگا، خاص طور پر کشمیر اور گلگت بلتستان میں گرج چمک کے ساتھ موسلا دھار بارش متوقع ہے، جہاں پہاڑی ڈھلوانوں پر لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے۔
خیبر پختونخوا کے علاقوں: چترال، دیر، سوات، کوہستان، مانسہرہ، ایبٹ آباد، نوشہرہ، پشاور، مردان، بنوں، ڈی آئی خان اور وزیرستان میں بھی بارش کے امکانات ہیں۔
پنجاب میں: راولپنڈی، مری، گلیات، لاہور، فیصل آباد، سیالکوٹ، گوجرانوالہ، نارووال، خوشاب اور سرگودھا جیسے علاقوں میں موسلا دھار بارش ہو سکتی ہے۔
سندھ کے اضلاع: مٹھی، تھرپارکر، سکھر، لاڑکانہ، دادو، اور جیکب آباد میں بھی بادل برسنے کے امکانات ہیں۔
بلوچستان کے علاقوں: بارکھان، لورالائی، ژوب، قلات، سبی، خضدار اور موسیٰ خیل میں بھی بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے۔
کیا خطرات ہیں؟
محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کے نشیبی علاقے بارش کے باعث **زیرِ آب آ سکتے ہیں۔
پہاڑی علاقوں میں بارش کے نتیجے میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے، جس سے آمد و رفت میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے۔
شدید بارشوں کے دوران چھوٹے نالوں اور دریاؤں میں طغیانی بھی متوقع ہے، خاص طور پر اُن علاقوں میں جہاں پہلے ہی پانی کی سطح بلند ہے۔
محکمہ موسمیات نے شہریوں، مسافروں، اور متعلقہ اداروں کو خبردار کیا ہے کہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، خاص طور پر پہاڑی علاقوں میں۔ نشیبی علاقوں کے مکین الرٹ رہیں، اور ممکن ہو تو محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں۔ ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو ادارے فوری ردعمل کے لیے تیاری رکھیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: محکمہ موسمیات لینڈ سلائیڈنگ علاقوں میں
پڑھیں:
موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
لاہور میں رات گئے شروع ہونے والی موسلادھار بارش کے بعد اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی، جس کے باعث متعدد رہائشی علاقوں اور اہم شاہراہوں پر کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا جبکہ نشیبی علاقوں میں گھروں میں پانی داخل ہونے، ٹریفک جام اور سیوریج نظام مفلوج ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔شہر میں رات گئے شروع ہونے والی بارش وقفے وقفے سے جاری ہے، جس کے باعث شہر کے مختلف علاقوں میں اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ کینٹ، ڈیفنس اور والٹن سمیت متعدد علاقوں میں سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں جبکہ کئی مقامات پر گھروں میں بھی پانی داخل ہوگیا۔لاہور کینٹ میں موسلادھار بارش کے باعث سیوریج سسٹم جواب دے گیا، جس سے علی ویو گارڈنز، علی پارک، نادرا آباد اور دیگر علاقوں میں کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا۔ مقامی افراد کے مطابق بیشتر علاقے ندی نالوں کا منظر پیش کر رہے ہیں۔دوسری جانب ڈیفنس فیز تھری کے اے، بی اور سی بلاکس میں بھی بارش کا پانی گھروں میں داخل ہوگیا جبکہ والٹن روڈ اور کیولری گراؤنڈ میں سڑکیں مکمل طور پر زیر آب آگئیں۔ کیولری گراؤنڈ کی مرکزی شاہراہ بھی پانی میں ڈوب گئی، جس کے باعث آمدورفت شدید متاثر رہی۔بارش کے بعد مین ڈیفنس روڈ پر بھی پانی جمع ہونے سے سڑک دریا کا منظر پیش کرنے لگی جبکہ ڈیفنس انڈر پاس بھی پانی سے بھر گیا۔ شہر کے مختلف حصوں میں پانی کھڑا ہونے کے باعث ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی، گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں اور شہریوں کو گھنٹوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔مسلسل بارش کے باعث لاہور کی بیشتر شاہراہیں جل تھل ہوگئیں جبکہ روزمرہ زندگی بری طرح متاثر رہی۔ شہریوں نے متعلقہ اداروں سے نکاسی آب کے مؤثر انتظامات اور فوری ریلیف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔محکمہ موسمیات کے مطابق آج دن پر وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری رہے گا، مون سون کی بارشوں کے باعث لاہور میں حبس اور گرمی کی شدت میں کمی آگئی ہے۔لاہور میں کم سے کم درجہ حرارت 27 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ زیادہ سے زیادہ 29 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ہے۔لاہور میں سب سے زیادہ بارش ایئرپورٹ پر 262 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ مناواں میں 200، تاجپور میں 151، کاہنہ میں 142، شادی پورہ میں 129 اور مغل پورہ میں 127 اور اپر مال پر 111 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔جوہر ٹاؤن میں 80، چوک ناخدا میں 60، نشتر ٹاؤن میں 54، اقبال ٹاؤن میں 51، گلبرگ میں 49، ڈیفنس روڈ 45، سمن آباد میں 29، جیل روڈ اور پانی والا تالاب 26، لکشمی چوک اور فرخ آباد میں 24، سگیاں میں 21 اور گلشن راوی میں 17 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ایم ڈی واسا لاہور غفران احمد نکاسی آب آپریشن کی مسلسل مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں شدید بارش کا سلسلہ جاری ہے جس کے سبب اندرون اور بیرون ملک جانے اور آنے والی پروازیں متاثر ہوگئیں۔لاہور سے کراچی، دبئی، جدہ، ابو ظہبی، استنبول جانے اور آنے والی 6 پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں۔ شدید بارش سے پروازوں کی آمد و رفت میں تاخیر ہوئی۔ایئرپورٹ حکام نے مسافروں کو اپنی پروازوں کے بارے میں معلومات لیکر آنے کی ہدایت کی ہے۔