سیلابی دباؤ کے باعث سیالکوٹ ایئرپورٹ کا فضائی آپریشن عارضی طور پر معطل
اشاعت کی تاریخ: 28th, August 2025 GMT
سیالکوٹ انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر آج دن بھر فضائی سرگرمیاں محدود رہیں گی کیونکہ شدید بارشوں کے بعد سیلابی پانی ایئرپورٹ کے اطراف میں داخل ہونے لگا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:29 اگست سے شدید بارشوں کی پیشگوئی، نشیبی علاقے متاثر ہو سکتے ہیں
انتظامیہ کے مطابق صبح دس بجے سے رات دس بجے تک فلائٹ آپریشن بند رکھا جائے گا تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بچا جا سکے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق ایوی ایشن حکام نے پروازوں کی معطلی کا باضابطہ نوٹم جاری کر دیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ جنوبی جانب سے سیلابی ریلے نے ایئرپورٹ کو گھیرنے کی کوشش کی جس کے بعد فوری طور پر مشینری اور عملے کو متحرک کر دیا گیا۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پانی کے اخراج کے لیے ڈی واٹرنگ پمپ مسلسل کام کر رہے ہیں تاکہ رن وے اور دیگر حساس مقامات کو نقصان نہ پہنچے۔
یہ بھی پڑھیں:سیالکوٹ میں بارش کا 49 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا، متعدد علاقے زیر آب
حکام کا کہنا ہے کہ ٹرمینل بلڈنگ، پارکنگ اور رن وے کا بڑا حصہ محفوظ ہے اور ایئرپورٹ پر نصب تمام آلات کو کسی قسم کا خطرہ لاحق نہیں۔ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور امید ظاہر کی گئی ہے کہ آپریشن رات دس بجے کے بعد معمول پر آ جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آپریشن معطل بارش سیالکوٹ ایئرپورٹ سیلابی دباؤ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سیالکوٹ ایئرپورٹ سیلابی دباؤ
پڑھیں:
ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
واشنگٹن:امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے مکمل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارروائی کے دوران ایرانی فوجی تنصیبات، ڈرون مراکز اور ساحلی نگرانی کے نظام کو نشانہ بنایا گیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ تازہ کارروائی میں فوجی کمانڈ سینٹرز، ڈرون ذخیرہ گاہیں، مواصلاتی نیٹ ورک، ساحلی نگرانی کے مراکز اور بحری صلاحیتوں سے متعلق اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
https://t.co/Wtbk84dEsc
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 24, 2026سینٹکام کے مطابق ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور شہری بحری نقل و حمل کو درپیش خطرات میں مزید کمی لانا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز بدستور کھلی ہوئی ہے اور تجارتی جہاز امریکی فوج کی معاونت کے ساتھ معمول کے مطابق اس اہم بحری راستے سے گزر رہے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے مزید بتایا کہ اس وقت مشرق وسطیٰ کے مختلف علاقوں میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی اہلکار تعینات ہیں جو خطے میں جاری صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔