وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت، ہارون اختر خان سے فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری  کے صدر عاطف اکرام شیخ کی قیادت میں بزنس کمیونٹی کے ایک اعلیٰ سطح وفد نے ملاقات کی۔ وفد میں یو بی جی کے پیٹرن انچیف ایس ایم تنویر اور ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر ذکی اعجاز بھی شامل تھے۔
وفد نے نئی اور جامع صنعتی پالیسی کی تیاری پر ہارون اختر خان کو مبارکباد دی اور بزنس کمیونٹی کے مسائل کے حل میں ان کے کردار کو سراہا۔ ملاقات میں نئی انڈسٹریل پالیسی، موجودہ صنعتی چیلنجز اور کاروباری ماحول کو بہتر بنانے کے اقدامات پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ہارون اختر خان نے کہا کہ انڈسٹریل پالیسی کی تشکیل ایک چیلنجنگ کام تھا لیکن ہم نے تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے ایک مربوط پالیسی تیار کی اس مقصد کیلئے آکسفورڈ کے ماہر کنسلٹنٹس کی خدمات حاصل کی گئیں اور آٹھ مختلف کمیٹیوں نے اس عمل میں حصہ لیا۔ انہوں نے بتایا کہ نئی پالیسی میں ایک جدید بینک کرپسی قانون متعارف کرایا گیا جس کے تحت قرض دہندگان کو ایک سال کی مہلت دی جائے گی، اس کے بعد قانونی کارروائی عمل میں آئے گی۔
معاون خصوصی نے کہا کہ ایف بی آر کو بھی بزنس کمیونٹی کے خدشات دور کرنے اور ہراسانی کے خاتمے پر قائل کیا گیا ۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ صنعتی ترقی کسی بھی ملک کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے پاس فی الوقت 7 ہزار میگاواٹ اضافی بجلی موجود ہے، لیکن مہنگی قیمتوں کی وجہ سے اس کی کھپت ممکن نہیں ہو رہی۔ بجلی 7 سینٹ فی یونٹ پر بھی منافع دے سکتی ہے، لیکن آئی ایم ایف کے دباؤ کی وجہ سے قیمتیں کم نہیں کی جا رہیں۔
ہارون اختر خان نے کہا کہ مسلسل کوششوں کے بعد اب بزنس مین کو معاشرے میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے اور یہ ایک مثبت تبدیلی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بزنس کمیونٹی نے 25 فیصد انٹرسٹ ریٹ جیسے مشکل حالات کے باوجود اپنے کاروبار کو زندہ رکھا۔
ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے اس موقع پر کہا کہ نئی صنعتی پالیسی بزنس فرینڈلی ہے، اور اس سے پیداواری لاگت میں کمی، درآمدات میں کمی اور برآمدات میں اضافہ ممکن ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف صنعتوں کو ریلیف دینے اور کاروباری لاگت کم کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہے ہیں۔
یو بی جی کے پیٹرن انچیف ایس ایم تنویر نے زور دیا کہ صنعتی ترقی کے لیے بجلی کی قیمتوں میں کمی ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہنگی بجلی کی وجہ سے پنجاب کی صنعتیں شدید متاثر ہو رہی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ توانائی کی قیمتوں کو خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں مسابقتی بنایا جائے تاکہ خاص طور پر ٹیکسٹائل برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ ممکن ہو سکے۔
انہوں نے بزنس کمیونٹی پر سے “چور” کا لیبل ختم ہونے کو ایک خوش آئند پیش رفت قرار دیا۔

Post Views: 4.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان

لاہور : پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا۔رانا سکندر حیات نے ستمبر کے پہلے ہفتے سے انگلش اور کیمسٹری سمیت دیگر مضامین کی تدریس کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ لاہور میں ستمبر کے پہلے ہفتے سے کلاس کو پڑھاناشروع کروں گا، انگلش اور کیمسٹری میرے پسندیدہ مضمون ہیں لہٰذا ان ہی مضامین سے شروع کروں گا۔وزیر تعلیم نے کہنا ہےکہ پرائمری اسکولوں میں انگلش اور ہائی اسکولوں میں کیمسٹری سے آغاز کروں گا جب کہ انگلش اور کیمسٹری کے علاؤہ دیگرمضامین کی بھی تدریس کروں گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہر ہفتے کسی ایک اسکول میں بغیر پیشگی اطلاع پڑھانے جاؤں گا، اساتذہ کی عزت کرتا ہوں، استاد بن کر فخر محسوس کروں گا۔ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے تعلیمی معیار کو جانچ کر تدریسی کمزوریاں دور کرنے میں مدد ملے گی۔

متعلقہ مضامین

  • کلچر کب تہذیب بنتا ہے
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان