بارشوں کے دوران بہہ نکلنے والی اربوں روپوں کی لکڑی دریائے نیلم کی نذر
اشاعت کی تاریخ: 29th, August 2025 GMT
وادی نیلم میں کلاؤڈ برسٹ کے نتیجے میں بڑی مقدار میں لکڑی دریاؤں میں بہہ گئی تھی تاہم محکمہ جنگلات نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے اس کی خاصی مقدار ریکوور کر لی۔
یہ بھی پڑھیں: مون سون بارشوں کے دوران اربوں روپے کی لکڑی دریائے نیلم میں بہہ گئی
محکمے کی کوششوں کے باوجود بھاری مقدار میں لکڑی دریائے نیلم کی نذر ہو گئی۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ لکڑی کی ریکووری کے عمل کو مزید مؤثر بنایا جائے۔
مزید پڑھیے: وادی نیلم کا ہنر: لکڑی کی تراشی ہوئی مصنوعات جو دنیا بھر میں مقبول ہیں
ماہرین کے مطابق لکڑی کے ضائع ہونے سے اربوں روپوں کا نقصان ہوا ہے۔ انتظامیہ نے باقی لکڑی کی تلاش اور بازیانی کے لیے کارروائی تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ دیکھیے یہ ویڈیو رپورٹ۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اربوں روپوں کی لکڑی ضائع دریائے نیلم کلاؤڈ برسٹ محکمہ جنگلات.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: دریائے نیلم کلاؤڈ برسٹ محکمہ جنگلات دریائے نیلم
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔