ٹھیکیدار رکن اسمبلی ہے، شاید ہی احتساب ہو سکے،خواجہ آصف نےسیالکوٹ کی سڑک پر گڑھوں کی ویڈیو شیئر کردی
اشاعت کی تاریخ: 30th, August 2025 GMT
وزیر دفاع خواجہ آصف نے سیالکوٹ میں ورلڈ بینک کے تعاون سے بننے والے ایک بڑے پروجیکٹ کی سڑک پر گڑھوں کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹھیکدار طاقتور اور رکن اسمبلی ہے، شاید ہی کسی کا احتساب ہو سکے، میرا حلقہ ہے اس لیے آواز اٹھانا میرا فرض ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے خواجہ آصف نے لکھا یہ پنجاب انٹرمیڈیٹ سیٹیز امپرومنٹ انویسٹمنٹ پروگرام (پی آئی سی آئی آئی پی) کا ایک پروجیکٹ ہے، سینکڑوں ڈالر کے ورلڈ بینک کے قرض سے 2 شہروں سیالکوٹ اور ساہیوال میں کئی سال سے کام ہو رہا ہے، کام کے معیار کا اندازہ ویڈیو سے لگالیں۔
وزیر دفاع نے لکھا کہ یہ سیالکوٹ میں خادم علی روڈ ہے اور اس کے نیچے پی آئی سی آئی آئی پی کے ٹھیکدار نے پائپ ڈالے ہیں، اس سے باقی کام کی کوالٹی کا اندازہ بھی لگایا جا سکتا ہے، شہر کے باہر ڈسپوزل بنی ہے لیکن سسٹم ابھی چالو نہیں۔
خواجہ آصف نے مزید لکھا کہ ٹھیکدار طاقتور ہے، آپ اندازہ لگا لیں وہ ہماری پارلیمنٹ کے رکن بھی ہیں، دولت کی کوئی انتہا ہی نہیں، شاید ہی کسی کا احتساب ہو سکے، میرا حلقہ ہے اس لیے آواز اٹھانا میرا فرض ہے۔
یہ ایک پراجیکٹ ھے جس کا نام PICIIP ھے سینکڑوں ڈالر کا ورلڈ بینک کا قرضہ دو شہروں سیالکوٹ اور ساہیوال میں کئی سال سے کام ھو رہا ھے۔ کام کی کوالٹی کا آپ اس وڈیو سے اندازہ لگا لیں۔ یہ سیالکوٹ میں خادم علی روڈ ھے اور اسکے نیچے PICCIP کے ٹھیکدار نے پائپ ڈالے ھیں ۔ اس سے باقی کام کی… pic.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
پشاور:خیبرپختونخوا اسمبلی میں ناراض حکومتی ارکان کے ساتھ مفاہمت نہ ہوسکی ناراض ارکان نے کسی بھی قسم کے مذاکرات سے انکار کرتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے آج اجلاس طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی میں حکومتی ارکان کا ناراض گروپ اپنے مطالبات پر ڈٹ گیا، ناراض ارکان سے سابق اسپیکر اسد قیصر اور سابق صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے بھی رابطہ کیا ہے لیکن ناراض ارکان نے حکومت کے علاقہ کسی سے بھی مذاکرات سے انکار کردیا۔
ناراض ارکان کا کہنا ہے کہ ہمیں وزیراعلی سہیل آفریدی کی جانب سے یقین دہانی چاہیے، ایک ناراض رکن نے بتایا کہ ہمارا کوئی فارورڈ بلاک نہیں اگر فارورڈ بلاک بنتا ہے تو یہ عمران خان کے خلاف ہوگا ہم حکومت کے پالیسیوں سے ناراض ہیں مرکزی قیادت کو بتایا دیا گیا ہے اور انھیں خط بھی لکھا گیا ہے لیکن پارٹی چیئرمین کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا، ناراض ارکان نے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے اجلاس آج دوبارہ طلب کرلیا ہے۔