گلگت بلتستان حکومت کا ہیلی کاپٹر چلاس کے قریب گر کر تباہ
اشاعت کی تاریخ: 1st, September 2025 GMT
چلاس:
گلگت بلتستان حکومت کا ہیلی کاپٹر چلاس تھور کے مقام پر کریش کر گیا جس میں تین افراد زخمی ہوگئے۔
ترجمان حکومت گلگت بلتستان فیض اللہ فراق کے مطابق ہمارا ایک ہیلی کاپٹر چلاس تھور کے مقام پر کریش ہوگیا ہے، ہیلی کاپٹر فنی خرابی کے باعث لینڈ کرنے کے بعد پھر کریش کر گیا۔
فیض اللہ فراق نے بتایا کہ ہیلی کاپٹر میں 2 پائلٹ اور 3 ٹیکنیکل اسٹاف سوار تھے، ہیلی کاپٹر سے آگ بجھانے کی کوشش جاری ہے۔
وزیراعلیٰ گلگت بلتستان نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو موقع پر پہنچنے کی ہدایت کی ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ افراد موقع پر پہنچ رہے ہیں۔
کمانڈر ایف سی این، ڈی جی گلگت بلتستان اسکاؤٹس، کمشنر دیامر سمیت عوام کی بڑی تعداد موقع پر پہنچ چکی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: گلگت بلتستان ہیلی کاپٹر
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔