Daily Sub News:
2026-07-24@09:52:55 GMT

حضرت محمد ﷺ: تمام انسانیت کے لیے چراغِ ہدایت

اشاعت کی تاریخ: 1st, September 2025 GMT

حضرت محمد ﷺ: تمام انسانیت کے لیے چراغِ ہدایت

حضرت محمد ﷺ: تمام انسانیت کے لیے چراغِ ہدایت WhatsAppFacebookTwitter 0 1 September, 2025 سب نیوز


تحریر:محمد محسن اقبال


اللہ ربّ العزت نے اپنی لامحدود رحمت اور حکمت کے تحت ہمارے جدِ امجد حضرت آدم علیہ السلام اور امّاں حوّا کو اس دنیا میں بھیجا تاکہ انسانیت کا آغاز ہو اور تہذیب و تمدن کی کہانی شروع ہو۔ لیکن انسان کو کبھی بے یار و مددگار نہیں چھوڑا گیا۔ ہر دور میں اللہ تعالیٰ نے اپنی آسمانی کتابیں نازل فرمائیں اور اپنے برگزیدہ رسول مبعوث کیے تاکہ بنی نوعِ انسان کو سیدھی راہ دکھائیں۔ حضرت نوح سے لے کر حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ سے حضرت عیسیٰ علیہم السلام تک ہر نبی نے توحید کی ابدی سچائی کی گواہی دی۔ لیکن جب خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ تشریف لائے تو رسالت کا مشن اپنی تکمیل اور کمال کو پہنچا۔


آپؐ پر آخری آسمانی کتاب، قرآن مجید نازل ہوئی جو ہر دور اور ہر قوم کے لیے رہنمائی ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ”یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں، پرہیزگاروں کے لیے ہدایت ہے” (البقرہ 2:2)۔ اور ایک اور مقام پر فرمایا: ”اور ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر” (الانبیاء 21:107)۔ یہ رحمت صرف مسلمانوں تک محدود نہ تھی بلکہ ایک لامحدود سمندر کی مانند ساری کائنات پر محیط تھی—انسان و حیوان، مومن و غیر مومن، زمین و آسمان سب اس رحمت کے دائرے میں آ گئے۔


نبی کریم ﷺ کی مبارک ذات چلتا پھرتا قرآن تھی۔ آپؐ کا قول و فعل انسانیت کے لیے بہترین نمونہ تھا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”یقیناً تمہارے لیے رسول اللہ کی زندگی بہترین نمونہ ہے، اس شخص کے لیے جو اللہ اور یومِ آخرت کی امید رکھتا ہے اور اللہ کو کثرت سے یاد کرتا ہے” (الاحزاب 33:21)۔ آپؐ کی عاجزی بے مثال، آپؐ کا عدل ناقابلِ تزلزل اور آپؐ کی شفقت لامحدود تھی۔ آپؐ نے فرمایا: ”مجھے بھیجا ہی اس لیے گیا ہے کہ میں اخلاق کے اعلیٰ معیار کو مکمل کر دوں” (مسند احمد)۔
عرب کے صحراؤں سے اٹھنے والا یہ پیغام براعظموں تک پھیل گیا اور تاریخ کا دھارا بدل گیا۔

شعرا، دانشور اور مفکرین—مسلمان ہوں یا غیر مسلم—سب اس عظیم المرتبت ہستی کے بارے میں لکھنے پر مجبور ہوئے جنہوں نے قوموں کی تقدیر بدل دی۔ ہر زبان میں اور ہر دور میں آپؐ کی مدح میں بے شمار کتابیں لکھی گئیں لیکن آپؐ کی عظمت قلم و زبان کی گرفت سے ماورا ہے۔


فرانس کے شاعر اور سیاست دان الفانس ڈی لامارتین نے اعتراف کیاکہ ”فلسفی، خطیب، رسول، قانون ساز، مجاہد، خیالات کا فاتح… بیس دنیوی سلطنتوں اور ایک روحانی سلطنت کے بانی، وہ محمدؐ ہیں۔ انسانی عظمت کے پیمانے پر اگر پرکھا جائے تو کیا ان سے بڑا کوئی ہے؟”


اسکاٹ لینڈ کے محقق ولیم مونٹگمری واٹ نے آپؐ کی سچائی پر گواہی دی کہ ”اپنے عقیدے کی خاطر اذیتیں سہنے کا حوصلہ، ان لوگوں کا اعلیٰ اخلاق جو آپ پر ایمان لائے اور آپ کو رہنما مانا، اور آپ کی کامیابیوں کی عظمت—یہ سب آپ کی بنیادی دیانت کی دلیل ہیں۔”


جارج برنارڈ شا نے کہا کہ ”انہیں انسانیت کا نجات دہندہ کہا جانا چاہیے۔ میرا یقین ہے کہ اگر ایسا شخص آج دنیا کی قیادت سنبھالے تو وہ دنیا کے مسائل حل کر کے امن و سکون قائم کر دے۔”


تھامس کارلائل نے لکھا کہ ”ایک شخص نے کس طرح تنہا خانہ جنگی میں مبتلا قبیلوں اور بدووں کو بیس برس سے بھی کم عرصے میں ایک طاقتور اور مہذب قوم میں بدل دیا… یہ ایک خاموش اور عظیم روح تھی جو دنیا کو جگانے آئی۔”
روسی مفکر لیو ٹالسٹائی نے کہا: ”اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت محمد ﷺ ان عظیم مصلحین میں سے ہیں جنہوں نے معاشرتی ڈھانچے کی گہرائیوں کو بدلا اور ایک پوری قوم کو سچائی کی روشنی دکھائی اور ترقی و تہذیب کے دروازے کھول دیے۔”


مہاتما گاندھی نے اقرار کیا: ”اسلام تلوار سے نہیں پھیلا… بلکہ نبی کریم ﷺ کی سادگی، وعدوں کی پاسداری، اخلاص، بہادری اور اللہ پر کامل یقین نے دلوں کو جیتا۔”


اینی بیسنٹ نے کہا: ”جو کوئی بھی عرب کے عظیم پیغمبر کی زندگی اور کردار کا مطالعہ کرتا ہے وہ اس ہستی کے لیے سوائے احترام اور عقیدت کے کچھ محسوس نہیں کر سکتا۔”
انگلستان کے مورخ ایڈورڈ گبن نے مانا: ”محمدؐ کی سب سے بڑی کامیابی محض اخلاقی قوت سے حاصل ہوئی، بغیر تلوار کے ایک وار کے۔”


ریورنڈ بوسورتھ اسمتھ نے کہا: ”وہ قیصر بھی تھے اور پوپ بھی، لیکن قیصر تھے بغیر لشکروں کے، اور پوپ تھے بغیر دعووں کے۔”
جرمن شاعر گوئٹے نے آپ کو ”انسانیت کا ہیرو” قرار دیا جس کی زندگی ایک ”لازوال اور شاندار دھارے” کی مانند بہتی ہے۔
اینا میری شِمّل نے کہا: ”نبی اکرم ﷺ ہمیشہ کے لیے بہترین نمونہ ہیں… امت کے رگ و پے میں عشقِ رسول خون کی مانند دوڑتا ہے۔”
مائیکل ایچ ہارٹ نے تاریخ کے سب سے مؤثر افراد میں آپؐ کو سب سے پہلے مقام پر رکھا اور لکھا: ”وہ واحد شخصیت ہیں جو مذہبی اور دنیوی دونوں سطحوں پر بیک وقت کامیاب ہوئیں۔
واشنگٹن اِروِنگ نے آپ کو ایک سنجیدہ، سادہ اور عوام کا محبوب رہنما قرار دیا۔


سر تھامس آرنلڈ نے کہا کہ آپ کا پیغام ایک ایسا عقیدہ ہے جو ”انتہائی سادہ اور صاف ہے اور براہِ راست دلوں میں اترتا ہے۔”
یوں وحی ہو یا تاریخ، اولیا کی گواہی ہو یا مفکرین کا اعتراف—سب ایک ہی سچائی پر متفق ہیں: رسول اللہ ﷺ وہ نور ہیں جنہوں نے تاریکی کو روشنی میں بدلا۔ قرآن خود اعلان کرتا ہے: ”اے نبی! بے شک ہم نے آپ کو بھیجا ہے گواہ بنا کر، خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر، اور اللہ کے حکم سے اس کی طرف بلانے والا اور روشن چراغ بنا کر” (الاحزاب 33:45-46)۔
نبوت کا تاج آپؐ پر ختم ہوا مگر آپ کا نور آج بھی زندہ ہے، آپ کی سنت ابدی ہے۔ آپؐ کے نقشِ قدم آج بھی امت کی دعاؤں میں، اذان کی صدا میں، اور ہر مسلمان کے دل کی دھڑکن میں سنائی دیتے ہیں۔ آپؐ دنیا کے لیے رحمت بن کر آئے اور ہمیشہ رحمت رہیں گے۔ کوئی قلم آپ کا حق ادا نہیں کر سکا، کوئی زبان آپ کی مدح پوری نہ کر سکی۔ اور جیسا کہ لامارتین نے کہا اور تاریخ نے جواب دیا: کیا ان سے بڑھ کر کوئی انسان ہے؟

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرگلگت بلتستان حکومت کا ہیلی کاپٹر چلاس کے قریب گر کر تباہ انقلاب اور پاکستان سیلاب: آنسو، سوال اور امید بغیر ڈیم کا دفاع سہ فریقی سفارتکاری: جنوبی ایشیا کی اسٹریٹجک بساط کی نئی تشکیل غربت کے خلاف چین کی کامیاب جنگ ۔آنکھوں دیکھا حال امریکی مفادات، پاکستانی وسائل اور مستقبل کی راہیں TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: کے لیے

پڑھیں:

زندگی کا مقصد

دنیا میں آنے والا ہر انسان کسی نہ کسی مرحلے پر یہ سوال ضرور کرتا ہے کہ میری زندگی کا مقصد کیا ہے؟ میں کیوں پیدا کیا گیا ہوں؟ کیا زندگی صرف تعلیم حاصل کرنے، روزگار کمانے، آسائشیں جمع کرنے اور پھر ایک دن اس دنیا سے رخصت ہو جانے کا نام ہے، یا اس کے پیچھے کوئی بڑا مقصد بھی موجود ہے؟ یہی سوال صدیوں سے انسان کے ذہن کو اپنی طرف متوجہ کرتا رہا ہے۔ فلاسفہ، مفکرین اور دانشور اپنے اپنے انداز میں اس کا جواب تلاش کرتے رہے ہیں، لیکن اسلام اس حوالے سے نہایت واضح اور جامع رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ قرآنِ مجید کے مطابق انسان کی تخلیق کسی اتفاق یا بے مقصد عمل کا نتیجہ نہیں ہے۔ اللہ تعالی نے انسان کو ایک عظیم مقصد کے تحت پیدا فرمایا۔ قرآن میں ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالی نے جنوں اور انسانوں کو اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔ اس ارشاد سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی زندگی کا بنیادی مقصد اپنے خالق کو پہچاننا، اس کی اطاعت کرنا اور اس کی رضا حاصل کرنا ہے۔یہاں عبادت کا مفہوم صرف نماز، روزہ یا دیگر مخصوص مذہبی اعمال تک محدود نہیں۔ اسلام میں عبادت ایک جامع تصور ہے جس میں زندگی کا ہر وہ عمل شامل ہے جو اللہ تعالی کی رضا کے لئے کیا جائے۔ ایک طالب علم کا دیانت داری سے علم حاصل کرنا، ایک تاجر کا ایمانداری کے ساتھ کاروبار کرنا، ایک استاد کا اخلاص کے ساتھ تعلیم دینا اور ایک شہری کا معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنا بھی عبادت کے زمرے میں آتا ہے۔قرآنِ مجید انسان کو یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ اسے بے مقصد پیدا نہیں کیا گیا۔ اللہ تعالی فرماتا ہے کہ کیا تم نے یہ سمجھ لیا ہے کہ تمہیں فضول پیدا کیا گیا ہے اور تمہیں ہماری طرف واپس نہیں لوٹنا؟ اس پیغام میں انسان کے لئے ایک اہم تنبیہ موجود ہے کہ اس کی زندگی کا ہر لمحہ قیمتی ہے اور اسے ایک دن اپنے تمام اعمال کا حساب دینا ہوگا۔اسلام انسان کو زمین پر اللہ کا نائب قرار دیتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو زمین پر خیر، انصاف اور بھلائی کے قیام کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ اسے علم حاصل کرنا، معاشرے کی اصلاح کرنا، کمزوروں کی مدد کرنا اور اخلاقی اقدار کو فروغ دینا ہے۔ جب انسان اپنی ذمہ داریوں کو سمجھ کر زندگی گزارتا ہے تو وہ اپنے مقصدحیات کے قریب تر ہو جاتا ہے۔زندگی دراصل ایک امتحان ہے۔ قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ اللہ تعالی نے موت اور زندگی کو اس لئے پیدا کیا تاکہ آزمایا جائے کہ کون بہترین عمل کرتا ہے۔ اس حقیقت کو سمجھنے کے بعد انسان کی سوچ بدل جاتی ہے۔ وہ جان لیتا ہے کہ کامیابی صرف مال و دولت، عہدے یا شہرت کا نام نہیں بلکہ بہترین کردار، اعلی اخلاق اور نیک اعمال کا نام ہے۔اگر ہم اپنے معاشرے کا جائزہ لیں تو اکثر لوگ دنیاوی کامیابی کو ہی زندگی کا آخری مقصد سمجھ لیتے ہیں۔ وہ دولت جمع کرنے، دوسروں سے آگے نکلنے اور ظاہری کامیابی حاصل کرنے میں اپنی تمام توانائیاں صرف کر دیتے ہیں۔ لیکن جب مقصد صرف دنیا بن جائے تو انسان حقیقی سکون سے محروم رہ جاتا ہے۔ اسلام انسان کو توازن کا درس دیتا ہے۔ وہ دنیا میں بھی کامیابی چاہتا ہے لیکن آخرت کی کامیابی کو اس سے زیادہ اہم سمجھتا ہے۔رسول اکرم ﷺ کی تعلیمات بھی مقصدِ حیات کو بہت خوبصورتی سے واضح کرتی ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی بھی عمل کی اصل قدر اس کی نیت سے متعین ہوتی ہے۔ اگر انسان کی نیت درست ہو اور وہ اللہ کی رضا کے لئے کام کرے تو اس کے معمولی سے معمولی کام کو بھی عظیم اجر حاصل ہو سکتا ہے۔ایک اور مشہور حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس کی ذمہ داری کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ اس تعلیم سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ انسان صرف اپنی ذات کے لئے نہیں جیتا بلکہ وہ اپنے خاندان، اپنے معاشرے اور اپنی ذمہ داریوں کے حوالے سے بھی جواب دہ ہے۔ ایک والد، استاد، حکمران، تاجر یا طالب علم سب اپنی اپنی جگہ ذمہ دار ہیں اور انہیں اپنی ذمہ داریوں کا حساب دینا ہوگا۔اسی طرح آپ ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ بھلائی کی بات کرے یا خاموش رہے۔ یہ تعلیم انسان کو مثبت کردار، حسنِ اخلاق اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ آج کے دور میں جب سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ کے ذریعے الفاظ بہت تیزی سے پھیلتے ہیں، یہ حدیث پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت اختیار کر گئی ہے۔رسول اللہ ﷺ نے دنیا اور آخرت کے تعلق کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ دنیا مومن کے لئے قید خانہ اور کافر کے لئے جنت ہے۔ اس حدیث کا مطلب یہ نہیں کہ مومن دنیا کی نعمتوں سے فائدہ نہیں اٹھاتا، بلکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ مومن اپنی خواہشات کو اللہ کے احکامات کا پابند بناتا ہے اور آخرت کی دائمی کامیابی کو دنیا کی عارضی لذتوں پر ترجیح دیتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ مقصد کے بغیر زندگی ایک ایسے جہاز کی مانند ہے جس کا کوئی راستہ متعین نہ ہو۔ انسان جتنا بھی کامیاب نظر آئے، اگر اس کے پاس واضح مقصد نہ ہو تو وہ اندرونی بے چینی اور خلا کا شکار رہتا ہے۔ اس کے برعکس جو شخص اپنے رب کو پہچان لیتا ہے، اپنی ذمہ داریوں کو سمجھ لیتا ہے اور اپنی زندگی کو خیر اور بھلائی کے لئے وقف کر دیتا ہے، وہ حقیقی سکون حاصل کر لیتا ہے۔آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی زندگیوں کا جائزہ لیں اور خود سے یہ سوال کریں کہ کیا ہم اپنے اصل مقصد کے مطابق زندگی گزار رہے ہیں؟ کیا ہماری تعلیم، ہماری محنت، ہمارے تعلقات اور ہماری روزمرہ سرگرمیاں ہمیں اللہ کی رضا کے قریب لے جا رہی ہیں؟ اگر نہیں تو ہمیں اپنی ترجیحات پر نظرثانی کرنی چاہیے۔مختصرا، انسان دنیا میں صرف کھانے، پینے، کمانے اور مر جانے کے لئے نہیں آیا۔ اس کا مقصد اپنے خالق کی معرفت حاصل کرنا، اس کی عبادت کرنا، بہترین اخلاق اپنانا، انسانیت کی خدمت کرنا اور آخرت کی کامیابی کے لیے تیاری کرنا ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو انسان کو دنیا میں عزت، سکون اور کامیابی عطا کرتا ہے اور آخرت میں دائمی فلاح کا ذریعہ بنتا ہے۔ ایک بامقصد زندگی ہی درحقیقت کامیاب زندگی ہے، اور یہی اسلام کا پیغام ہے۔

متعلقہ مضامین

  • زندگی کا مقصد
  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم