کراچی کی ایم اے جناح روڈ پر واقع پٹاخوں کے گودام میں ہونے والے حالیہ دھماکے کے معاملے پر متاثرہ خاندان نے سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا ہے۔

جاں بحق نوجوان کی والدہ اور بھائی کی جانب سے دائر درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ 21 اگست کو غیر قانونی پٹاخہ فیکٹری میں دھماکے سے ایک بیٹا جاں بحق جبکہ دوسرا شدید زخمی ہوا، لیکن اس واقعے کے بعد بھی دھماکا خیز مواد نہ ہٹایا گیا اور نہ ہی انتظامیہ کی جانب سے کوئی مؤثر کارروائی عمل میں لائی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی: پٹاخوں کے گودام میں آتشزدگی، دھماکوں کی آوازیں، 2 افراد جاں بحق، 33 زخمی

درخواست گزار کے وکیل عثمان فاروق ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ گنجان آباد علاقے میں آتش گیر اور دھماکا خیز مواد کی موجودگی سے مکینوں اور دکانداروں کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔ عمارت میں میڈیکل سپلائیز کی مارکیٹ بھی قائم ہے جہاں بزرگ اور بیمار افراد خریداری کے لیے آتے ہیں، اس کے باوجود انتظامیہ غیر قانونی فیکٹری اور گودام کی سہولت کاری کر رہی ہے۔

انہوں نے مؤقف اپنایا کہ دھماکے کا مقدمہ درج ہونے کے باوجود تاحال دھماکا خیز مواد محفوظ طریقے سے تلف نہیں کیا گیا۔ ایکسپلوسیو ایکٹ کے تحت کسی عوامی مقام پر دھماکا خیز مواد کی تیاری یا ذخیرہ کرنے کا لائسنس بھی نہیں دیا جاسکتا۔

مزید پڑھیں:

درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ پٹاخوں کے گوداموں اور فیکٹریوں کو شہری علاقوں سے منتقل کرنے کا حکم دیا جائے، ذمہ داروں کے تعین کے لیے اعلیٰ سطحی عدالتی یا فیکٹ فائنڈنگ کمیشن تشکیل دیا جائے اور فوری طور پر گودام میں موجود خطرناک مواد کو تلف کرنے کے اقدامات کیے جائیں۔

درخواست میں سندھ حکومت، کمشنر کراچی، ڈپٹی کمشنر جنوبی، ڈی جی سیپا اور سول ڈیفنس سمیت دیگر اداروں کو فریق بنایا گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ایکسپلوسیو ایکٹ پٹاخوں سندھ حکومت سندھ ہائیکورٹ سول ڈیفنس فیکٹ فائنڈنگ کمیشن کمشنر کراچی گودام میڈیکل سپلائیز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایکسپلوسیو ایکٹ پٹاخوں سندھ حکومت سندھ ہائیکورٹ سول ڈیفنس فیکٹ فائنڈنگ کمیشن کمشنر کراچی گودام دھماکا خیز مواد

پڑھیں:

باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔

عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔

(جاری ہے)

درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔

متعلقہ مضامین

  • ہولناک سانحہ، ایک شخص نے خاندان کے 6 افراد کو قتل کرکے خود کو گولی مار دی
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے
  • کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا